Bharat Express DD Free Dish

Precision Test of ‘Akash Prime’ Missile Successful: لداخ میں 15 ہزار فٹ کی بلندی پر آکاش پرائم دفاعی نظام کا کامیاب تجربہ، پاک چین فضائی حملوں سے محفوظ رکھے گے

بھارت نے لداخ میں 15 ہزار فٹ کی بلندی پر آکاش پرائم میزائل کا تجربہ کرکے ایک بڑا پیغام دیا ہے۔ نئی آکاش پرائم میزائلیں پچھلی نسل کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور بہتر کارکردگی کی حامل ہیں۔

‘آپریشن سندور’ کے بعد بھارت مسلسل اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مصروف ہے۔ اسی تناظر میں بھارتی فوج جلد ہی آکاش پرائم میزائلوں کو اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں شامل کرنے جا رہی ہے۔ یہ میزائلیں چین کے ساتھ سرحدی علاقوں کی بلند پہاڑیوں پر تعینات کی جائیں گی۔ بدھ کے روز فوج نے لداخ میں اس نئے میزائل سسٹم کا دو بار تجربہ کیا، جس میں آکاش پرائم میزائلوں نے 15,000 فٹ کی بلندی پر دو تیز رفتار ڈرونز کو نشانہ بنایا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اسے بھارت کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

بھارت نے لداخ میں 15 ہزار فٹ کی بلندی پر آکاش پرائم میزائل کا تجربہ کرکے ایک بڑا پیغام دیا ہے۔ نئی آکاش پرائم میزائلیں پچھلی نسل کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور بہتر کارکردگی کی حامل ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد پاکستان اور چین پر کڑی نظر رکھنا ہے۔ خاص طور پر پہاڑی سرحدوں یا اونچے مقامات پر دشمن کے طیاروں کی دراندازی کو ناکام بنانے میں یہ میزائل سسٹم اہم کردار ادا کرے گا۔ بلندی پر واقع سرحدی علاقوں میں آپریشن کے لیے یہ میزائل نظام نہایت مفید ثابت ہوگا۔

اگرچہ حالیہ دنوں میں بھارت اور چین کے تعلقات میں کچھ بہتری آئی ہے اور دونوں ممالک بات چیت کی میز پر آمنے سامنے آ رہے ہیں، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ چین پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی ایک جھلک حالیہ بھارت-پاکستان کشیدگی میں نظر آئی، جب پڑوسی ملک کے جوابی اقدامات میں چینی طیاروں اور ہتھیاروں کے استعمال کا انکشاف ہوا۔ ایسے میں آکاش پرائم میزائل سسٹم بلندی والے سرحدی علاقوں پر نظر رکھنے کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے، تاکہ دشمن کی کسی بھی ناپاک حرکت کو وہیں تباہ کیا جا سکے۔

فوج اور بھارتی فضائیہ کے پاس پہلے ہی آکاش میزائلیں موجود ہیں۔ ان کا استعمال ‘آپریشن سندور’ کے دوران پاکستان کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا۔ 7 سے 10 مئی کے درمیان اس آپریشن کے دوران ان میزائلوں کو استعمال کیا گیا۔ آکاش اور آکاش پرائم دونوں ہی 25 کلومیٹر کی حدود میں دشمن کے طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرونز کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ے کہ  اب آکاش پرائم کو 4,500 میٹر سے زیادہ بلندی والے علاقوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں جدید گراؤنڈ سسٹم، ریڈار اور ریڈیو فریکوئنسی سسٹم شامل کیے گئے ہیں۔

ایک افسر نے بتایا کہ آکاش پرائم سسٹم میں کئی بہتریاں کی گئی ہیں۔ اسے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) نے ڈیزائن کیا ہے اور بھارت ڈائنامکس نے اس کی تیاری کی ہے۔ فوج سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر اسے مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ مارچ 2023 میں 8,160 کروڑ روپے کے معاہدے کے تحت آرمی ایئر ڈیفنس (AAD) آکاش پرائم سسٹم کی دو نئی رجمنٹیں تیار کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی فوج کے پاس آکاش سسٹم کی مزید دو رجمنٹیں بھی ہوں گی۔

بھارتی فضائیہ نے پہلے ہی 10,900 کروڑ روپے میں آکاش سسٹم کے 15 اسکواڈرن کا آرڈر دیا ہے، جس کی اطلاع پہلے ہی ٹائمز آف انڈیا نے دی تھی۔ DRDO نے آکاش نیو جنریشن (آکاش-NG) ویپن سسٹم بھی تیار کیا ہے، جس کی ابتدائی مارک صلاحیت 30 کلومیٹر ہے، جسے وقت کے ساتھ مزید بڑھایا جائے گا۔ آکاش-NG کا پہلا تجربہ جنوری 2021 میں کیا گیا تھا۔ اس میں چھوٹے سائز کی میزائلیں، جدید ریڈیو فریکوئنسی سیکر، لانچر، ملٹی-فنکشن ریڈار، اور کمانڈ، کنٹرول و کمیونیکیشن سسٹم شامل ہیں۔ ایک اور افسر کے مطابق آکاش-NG ایک کینیسٹر پر مبنی سسٹم ہے، جو آپریشنز کو مزید آسان بناتا ہے۔ ہر کینیسٹر میں چھ میزائلیں ہو سکتی ہیں، جس سے دشمن کو مار گرانے کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read