وارانسی میں 22 لوگوں نے کی 19 سالہ لڑکی کی عصمت دری
وارانسی ریپ کیس: اتر پردیش کے وارانسی میں ایک 19 سالہ لڑکی کو 22 لوگوں نے ایک ہفتے تک اغوا کر کے اجتماعی عصمت دری کیا۔ پولیس نے بتایا کہ چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور باقی کی تلاش جاری ہے۔ شمالی وارانسی کے لال پور علاقے کی رہنے والی لڑکی 29 مارچ کو اپنے ایک دوست سے ملنے گھر سے نکلی تھی۔ وہ اکثر یہاں بغیر کسی پریشانی کے آتی تھی۔ لیکن اس بار وہ گھر واپس نہیں لوٹی۔ جس کے بعد اس کے اہل خانہ نے 4 اپریل کو پولیس میں شکایت درج کرائی۔
4 اپریل کو اغوا کاروں نے متاثرہ کو نشہ آور چیز پلا کر پانڈے پور چوراہے پر چھوڑ دیا۔ وہ کسی طرح قریبی دوست کے گھر پہنچی اور بعد میں اسے گھر لے جایا گیا۔ بعد میں اس نے سارا واقعہ اپنے والد کو سنایا جس کے بعد پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔ یہ جرم ایک ہکا بار، ایک ہوٹل، ایک لاج اور ایک گیسٹ ہاؤس میں کیا گیا۔ اس میں کئی لوگ شامل تھے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ 22 لوگوں نے متاثرہ کے ساتھ ریپ کیا۔ؤ
کچھ ملزمان کے نابالغ ہونے کا امکان
مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس ملزمان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ گرفتار شدگان میں سے کچھ ہُکل گنج اور لالہ پورہ علاقوں سے ہیں اور انہیں اسی رات حراست میں لیا گیا تھا۔ لیکن پولیس کسی بھی قسم کی تفصیلات بتانے سے بچ رہی ہے کیونکہ ان میں سے کچھ نابالغ ہونے کا امکان ہے۔
ایک سینئر مقامی پولیس اہلکار چندرکانت مینا نے کہا کہ نہ تو متاثرہ لڑکی اور نہ ہی اس کے خاندان نے ابتدائی طور پر جنسی زیادتی کی شکایت درج کرائی تھی۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا، ’’ریپ کی شکایت 6 اپریل کو ہی درج کرائی گئی تھی۔ مزید تفتیش جاری ہے۔‘‘
وہیں، گرفتاری کے بعد پولیس عصمت دری کے ملزم کا طبی معائنہ کرانے دین دیال اسپتال پہنچی تھی۔ علاج کروا کر واپس لوٹ رہے ملزمین پر بھیم آرمی کے کارکنوں نے حملہ کر دیا۔ کارکنوں نے ملزمان کے بال نوچ کر انہیں تھپڑ مارا۔ پولیس اس معاملے میں مزید تفتیش میں مصروف ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



