Bharat Express DD Free Dish

Saurabh Bhardwaj: تو گرفتار کر لو– ای ڈی کے چھاپے کے دوران افسران سے کیا بولے عام آدمی پارٹی کے رہنما سوربھ بھاردواج؟

سوربھ بھاردواج نے دعویٰ کیا کہ ای ڈی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مَینک اروڑا نے ان کا بیان ان کے لیپ ٹاپ سے گوگل ڈرائیو پر اپلوڈ کیا، اور ممکنہ طور پر یہ بیان بی جے پی کے دفتر یا لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) کو بھیجا گیا۔

عام آدمی پارٹی دہلی کے صدر اور سینئر رہنما سوربھ بھاردواج نے ای ڈی (انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ) کی چھاپہ ماری کے بعد بڑا انکشاف کیا ہے۔ پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ ای ڈی کے افسران نے اُن پر دباؤ ڈالنے اور اُن کے بیان میں رد و بدل کی کوشش کی۔

اگر گرفتار کرنا ہے تو کر لو

سوربھ بھاردواج نے کہا: میں نے ای ڈی کی مرضی کے مطابق بیان پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ اگر گرفتار کرنا ہے تو کر لو۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ای ڈی جن دستاویزات کا مطالبہ کر رہی تھی، وہ حکومت کے پاس موجود ہیں۔ ’’میں نے آر ٹی آئی کے ذریعے وہ کاغذات مانگے تھے، لیکن مجھے فراہم نہیں کیے گئے۔‘‘

ای ڈی افسر نے بیان کہاں بھیجا؟

سوربھ بھاردواج نے دعویٰ کیا کہ ای ڈی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مَینک اروڑا نے ان کا بیان ان کے لیپ ٹاپ سے گوگل ڈرائیو پر اپلوڈ کیا، اور ممکنہ طور پر یہ بیان بی جے پی کے دفتر یا لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) کو بھیجا گیا۔انہوں نے کہا:یہ بیان میرے سامنے ہی میرے وائی فائی کے ذریعے شیئر کیا گیا، اور اس کا فارینزک ثبوت موجود ہے۔ بعد میں وہی بیان مارکنگ کے ساتھ واپس لایا گیا اور کہا گیا کہ اس میں تبدیلی کرنی ہوگی۔

دباؤ ڈال کر بیان تبدیل کروانے کا الزام<

/h3>

سوربھ بھاردواج نے الزام لگایا کہ ای ڈی افسر پر باہر سے ہدایات آ رہی تھیں کہ ان کے بیان میں کن حصوں کو نکالنا ہے اور کیا شامل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا:’’ای ڈی نے مجھ پر بیان بدلنے کے لیے دباؤ ڈالا۔‘‘انہوں نے PMLA قانون کی دفعہ 17 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت دیے گئے بیانات عدالت میں خود ملزم کے خلاف استعمال کیے جا سکتے ہیں، جو سراسر غیر منصفانہ ہے۔

اداروں کی پیشہ ورانہ ایمانداری پر سوال

انہوں نے مزید کہا:ای ڈی کے افسر نے کہا کہ اسے بھی ’پرفارمنس‘ دکھانی پڑتی ہے۔سوربھ بھاردواج نے اس بیان کو اداروں کی پیشہ ورانہ ساکھ پر سوالیہ نشان قرار دیا۔

’’ملک میں صرف نوٹنکی اور دلالی چل رہی ہے‘‘

انہوں نے سخت الفاظ میں کہا: ملک میں اس وقت صرف نوٹنکی اور دلالی چل رہی ہے۔ افسران پر سیاسی دباؤ ڈال کر ان سے کام کروایا جاتا ہے، یہاں تک کہ ان کے خاندان پر دباؤ ڈال کر ان کا بیان تبدیل کروایا جاتا ہے۔

ای ڈی افسر نے کس کو کال کی؟

پریس کانفرنس کے دوران سوربھ بھاردواج نے مطالبہ کیا کہ: ای ڈی افسر مینک اروڑا نے صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک کن لوگوں سے بات کی اور بیان کس کو بھیجا، اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read