کانگریس لیڈر پرینکا کا کہنا تھا کہ اگر کسی غیر ملکی وفد کی شرط پر بھارتی خواتین کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض سے روکا جاتا ہے، تو یہ نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ ملک کی خودمختاری اور خواتین کے احترام کے خلاف بھی ہے۔ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اس وقت بھارت کے دورے پر ہیں۔ جمعہ کو بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ ان کی ملاقات سرخیوں میں رہی، لیکن اس ملاقات کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں خاتون صحافیوں کی عدم موجودگی نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس واقعے پر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نہ صرف خواتین کے وقار کے خلاف ہے بلکہ ملک کے جمہوری اصولوں پر بھی سوال کھڑے کرتا ہے۔ خاص طور پر پرینکا گاندھی نے اسے بھارتی خواتین کی توہین قرار دیا اور پوچھا کہ کیا خواتین کے حقوق صرف انتخابی نعرہ بن کر رہ گئے ہیں؟ یہ معاملہ اب سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے اور حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اس پر وضاحت دے کہ آیا کسی غیر ملکی مہمان کی شرط پر بھارتی خواتین کو پریس کانفرنس سے باہر رکھا گیا۔ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے ہفتے کے روز وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی پریس کانفرنس میں خاتون صحافیوں پر لگائی گئی پابندی پر وضاحت پیش کریں۔ انہوں نے اس واقعے کو بھارت کی سب سے قابل اور باصلاحیت خواتین کی توہین قرار دیا۔ پرینکا نے کہا کہ یہ نہ صرف خواتین صحافیوں کے پیشہ ورانہ حق پر حملہ ہے بلکہ یہ بھارت میں خواتین کے مقام اور احترام پر بھی سوال کھڑا کرتا ہے۔
پرینکا گاندھی نے یہ بھی کہا:
’’کیا خواتین کے حقوق صرف انتخابی منشور کا حصہ ہیں؟ اگر ایک غیر ملکی مہمان کی خوشنودی کے لیے ہماری اپنی خواتین کو نظرانداز کیا جائے، تو یہ بھارت کے وقار کے خلاف ہے۔‘‘ اپوزیشن نے اس واقعے کو حکومت کی خارجہ پالیسی اور داخلی اقدار کے درمیان تضاد کی ایک مثال قرار دیا ہے، اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس پر شفاف جواب دے۔ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر وزیر اعظم نریندر مودی کو ٹیگ کرتے ہوئے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے لکھا: اگر آپ کا خواتین کے حقوق پر یقین محض ایک انتخابی دکھاوا نہیں ہے، تو ہمارے ملک میں خواتین کی اس طرح کی توہین کیسے ہونے دی گئی؟
Prime Minister @narendramodi ji, please clarify your position on the removal of female journalists from the press conference of the representative of the Taliban on his visit to India.
If your recognition of women’s rights isn’t just convenient posturing from one election to…
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) October 11, 2025
پرینکا نے مزید کہا کہ:
’’خواتین ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور اس واقعے نے ان کی عزت و وقار کو مجروح کیا ہے۔‘‘ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب افغان وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس سے خاتون صحافیوں کو باہر رکھنے کی بات سامنے آئی، جس پر ملک بھر میں بحث چھڑ گئی ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ مودی حکومت نے ایک غیر ملکی مہمان کی خواہش کے سامنے جھک کر بھارت کی خواتین کا وقار مجروح کیا ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کو نئی دہلی میں واقع افغان سفارت خانے میں اُس وقت پیش آیا جب افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی پریس کانفرنس میں خاتون صحافیوں کو مدعو نہیں کیا گیا۔
طالبان وزیر خارجہ کا مؤقف
متقی نے پریس کانفرنس میں خواتین کے حقوق پر کیے گئے ایک سیدھے سوال کو ٹال دیا۔ ان کا کہنا تھا: کہ’’ہر ملک کے اپنے رسم و رواج، قوانین اور اصول ہوتے ہیں، اور ان کا احترام کیا جانا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



