بہار میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں منگل کے روز دہلی میں ایک اہم سیاسی ملاقات ہوئی، جس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ مشہور بھوجپوری فلم اسٹار اور حالیہ دنوں میں سیاست میں سرگرم پون سنگھ نے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے سینئر رہنماؤں سے ملاقات کی، جس میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور جے پی نڈا بھی شامل تھے۔ پون سنگھ کی یہ ملاقات راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) کے صدر اوپندر کشواہا کے دہلی قیام گاہ پر ہوئی۔
ملاقات کے بعد پون سنگھ نے مختصر لیکن معنی خیز سیاسی پیغام دیا: “سب بڑیا ہوگا۔” ان کے اس بیان کو بہار کی سیاست میں نئے امکانات اور اتحاد کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، اوپندر کشواہا نے ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر شیئر کیں اور لکھا:آج میرے دہلی آواس پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر شری ونود تاوڑے جی اور رتوراج سنہا کی موجودگی میں بھوجپوری اسٹار شری پون سنگھ جی سے شائستہ ملاقات ہوئی۔
आज मेरे दिल्ली आवास पर भाजपा नेता श्री विनोद तावड़े जी और ऋतुराज सिन्हा की उपस्थिति में भोजपुरी स्टार श्री पवन सिंह जी से शिष्टाचार मुलाकात। pic.twitter.com/QolvUDQ5Us
— Upendra Kushwaha (@UpendraKushRLM) September 30, 2025
اپوزیشن کا حملہ، آر جے ڈی نے اٹھائے سوال
दिल्ली: राजद सांसद सुधाकर सिंह ने उपेंद्र कुशवाहा और पवन सिंह की मुलाकात पर कहा, “यह स्पष्ट है कि उपेंद्र कुशवाहा, जो बिहार के कुशवाहा समाज के एक स्थापित नेता थे, उनकी नेतृत्व क्षमता को चुनौती देने और उनकी राजनीतिक ताकत को लगभग समाप्त करने के उद्देश्य से भाजपा ने पवन सिंह को उनकी… pic.twitter.com/FL0rSK75r7
— IANS Hindi (@IANSKhabar) September 30, 2025
ملاقات کے فوراً بعد ہی اپوزیشن کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ایم پی سدھاکر سنگھ نے پون سنگھ اور اوپندر کشواہا کے درمیان ملاقات کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی “سازش” قرار دیا۔ انہوں نے کہا:”اپندر کشواہا جو کبھی کشواہا سماج کے ایک مضبوط لیڈر ہوا کرتے تھے، آج بی جے پی نے ان کی سیاسی طاقت کو ختم کرنے کے لیے پون سنگھ کو میدان میں اتار دیا ہے۔
سدھاکر سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ:”اپندر کشواہا اب بہار کی سیاست میں غیر متعلقہ ہو چکے ہیں۔ ان کی سودے بازی کی طاقت بھی ختم ہو گئی ہے۔ بی جے پی نے پون سنگھ کا استعمال کر کے کشواہا کو سیاسی طور پر الگ تھلگ کرنے کی چال چلی ہے، جو کامیاب دکھائی دے رہی ہے۔
بہار کی بدلتی ہوئی سیاسی فضا میں یہ ملاقات اور اس پر ردعمل، ظاہر کرتا ہے کہ انتخابات سے قبل اتحاد اور صف بندیاں تیزی سے ہو رہی ہیں۔ پون سنگھ جیسے مقبول چہرے کا سیاست میں بڑھتا کردار این ڈی اے کے لیے نیا ووٹر بیس بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جب کہ اپوزیشن اسے ایک اور “چال” قرار دے رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
