Bharat Express DD Free Dish

سیاست

چین کے شہر تیانجن میں دنیا کی 11 بڑی طاقتوں کا ایک بڑا اجتماع ہوا۔ اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل ویڈیو میں پی ایم مودی، صدر شی جن پنگ اور صدر پوتن ایک دوسرے کے قریب کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

پی ایم نریندر مودی نے مزید کہا کہ یہ حملہ صرف بھارت کی روح پر نہیں ہوا تھا، بلکہ ہر اُس ملک اور شخص کے لیے ایک چیلنج تھا جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔

آج پیر کے روز ایک بار پھر SCO کے رہنماؤں کا اجتماع ہوگا۔ دو دنوں پر محیط اس اجلاس کا آج آخری دن بھی ہے۔ پی ایم مودی بھی اس اجلاس میں شریک ہوں گے، جس کے بعد وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔

آئل کمپنیوں کی جانب سے ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اس کے بعد نئے نرخ جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ نئی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں کریڈ آئل کی بین الاقوامی قیمتوں، انڈین کرنسی (روپے) کی قدر اور دیگر بازار کی صورت حال کے مطابق مقرر کی جاتی ہیں اور فوراً پہلی تاریخ سے نافذ العمل ہو جاتی ہیں۔

ورلڈ پیس سینٹر کے بانی جین آچاریہ لوکیش مُنی نے اس معاہدے کو ایک سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا:"اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور ورلڈ پیس سینٹر کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ تعلیم میں انقلابی تبدیلی لائے گا اور دنیا بھر میں امن اور خیر سگالی کے پیغام کو عام کرے گا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا:"بدقسمتی سے آج رات آنے والے زلزلے کے باعث ہمارے کچھ مشرقی صوبوں میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

پی ایم مودی نے بتایا کہ سولر پاور سے کسانوں کی زندگی بدل رہی ہے۔ سولر پمپ اور سولر رائس ملز کے ذریعے کسانوں کی آمدنی بڑھی ہے۔ انہوں نے بہار کی دیوکی جی کا ذکر کیا جنہیں اب محبت سے ’سولر دیدی‘ کہا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ:"اب تک ایسے امیدواروں کو دیگر امتحانات کے لیے نئے سرے سے تیاری کرنی پڑتی تھی، جو وقت اور وسائل دونوں کا زیاں تھا۔ لیکن ‘پرتیبھا سیتو’  کے ذریعے ان کی محنت کا مناسب استعمال ممکن ہو سکے گا۔"

پی ایم  مودی نے کہا کہ اس مشکل وقت میں فوج، مقامی افراد، سماجی کارکنوں، ڈاکٹروں اور انتظامیہ نے مثالی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ہر اس شہری کا دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے انسانیت کو مقدم رکھتے ہوئے آگے بڑھ کر مدد کی۔

پروگرام میں اب تک صفائی مہم (سوچھ بھارت ابھیان)، ماحولیات، ڈیجیٹل تعلیم، خواتین کا بااختیار بنانا اور گراس روٹ سطح پر اختراعات جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی جا چکی ہے۔ اس کے اثرات کی بدولت کئی تحریکیں عوامی شمولیت کے ذریعے قومی سطح پر مؤثر ثابت ہوئیں۔