Bharat Express DD Free Dish

Karnataka Govt. Officers Controversy: آر ایس ایس  کےپروگرام میں شامل ہونے والے سرکاری افسران پر وزیر پریانک کھرگے سخت، وزیراعلیٰ کو لکھا خط

کرناٹک کے وزیر پریانک کھرگے نے وزیراعلیٰ سدارمیا کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری افسران کو کسی تنظیم سے وابستہ ہونے یا ان کے پروگراموں میں شامل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔

کرناٹک میں ان دنوں ایک بڑا انتظامی تنازعہ سامنے آیا ہے۔ ریاستی حکومت کے وزیر پریانک کھرگے نے وزیراعلیٰ سدارمیا کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ریاست کے تمام سرکاری افسران اور ملازمین کو کسی بھی تنظیم سے وابستہ ہونے یا ان کے پروگراموں میں شامل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ جو افسران اس اصول کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

پریانک کھرگے کا کیا کہنا ہے؟

کرناٹک ریاست کے وزیر کھرگے نے بتایا کہ ان کے محکمے کے کئی افسر حال ہی میں آر ایس ایس کے صد سالہ جشن میں شامل ہوئے تھے۔ اس پر انہوں نے ان افسران کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک سے دو دن کے اندر انہیں معطل بھی کیا جا سکتا ہے۔

کس اصول کا حوالہ دیا گیا؟

انہوں نے اس پورے معاملے میں کرناٹک سول سروس رولز، 2021 کا حوالہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی نیا ضابطہ نہیں ہے بلکہ پہلے سے نافذ سرکاری قواعد کا حصہ ہے۔ اس اصول کے مطابق، سرکاری ملازمین کسی ایسی تنظیم سے نہیں وابستہ ہو  سکتے جس کا سیاسی رجحان ہو، اور نہ ہی ان کے پروگراموں میں حصہ لے سکتے ہیں۔

’سول سروس کے قواعد پر سختی سے عمل آوری ضروری‘

پریانک کھرگے نے یہ بھی بتایا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ کئی پی ڈی او، دیہی اکاؤنٹنٹ اور دیگر افسران آر ایس ایس کے پروگراموں میں سرگرمی سے حصہ لے رہے ہیں، اور کچھ تو حکومت کے خلاف بیانات بھی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات کو روکنے کے لیے سول سروس کے قواعد پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ 2013 میں جب جگدیش شیٹّر وزیراعلیٰ تھے، تب بھی انہوں نے سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں صرف نصاب سے متعلق سرگرمیوں کو ہی اجازت دینے کی بات کہی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read