Bharat Express DD Free Dish

Fact Check: عالمی میڈیا نے سری نگر ہوائی اڈے کے قریب 10 دھماکوں کی بات کی ،پی آئی بی نے مسترد کر دیا دعویٰ

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان غلط معلومات پھیلانے کی کوشش میں، چین کے سرکاری میڈیا آؤٹ لیٹ چائنا ڈیلی نے غلط دعویٰ کیا کہ کشمیر میں تین ہندوستانی جیٹ طیارے گر کر تباہ ہوئے۔

جموں و کشمیر میں سری نگر ہوائی اڈے کے قریب تقریباً دس دھماکوں کا دعویٰ کرنے والی گمراہ کن رپورٹ شائع کرنے پر ہندوستان نے جمعہ کے روز عالمی میڈیا خصوصاً قطر میں مقیم الجزیرہ کے فرضی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا۔ پریس انفارمیشن بیورو (PIB) فیکٹ چیک نے اسے “فرضی خبر” کا نام دیا اور مستند معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کرنے کا مشورہ دیا۔ “ان جھوٹے دعوؤں میں مت پڑیں جن کا مقصد گمراہ کرنا اور الجھن پیدا کرنا ہے،”

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان غلط معلومات پھیلانے کی کوشش میں، چین کے سرکاری میڈیا آؤٹ لیٹ چائنا ڈیلی نے غلط دعویٰ کیا کہ کشمیر میں تین ہندوستانی جیٹ طیارے گر کر تباہ ہوئے۔ پی آئی بی فیکٹ چیک نے تصدیق کی کہ استعمال شدہ تصویر 2019 کے واقعے کی ہے۔ پی آئی بی نے مزید واضح کیا کہ استعمال کی گئی تصویر 2019 کی الجزیرہ رپورٹ میں دکھائی گئی تصویر سے ملتی جلتی ہے۔ غلط معلومات کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے، پی آئی بی نے کہا کہ یہ جھوٹا دعویٰ ایک مربوط چینی پروپیگنڈا مہم کا حصہ لگتا ہے جس کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور عوام کو گمراہ کرنا ہے۔

X پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے، PIB Fact Check نے لکھا، “@ChinaDaily کی ایک خبر نے جھوٹا دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر میں کم از کم تین ہندوستانی جیٹ طیارے گر کر تباہ ہوئے۔ تصویر 2019 کے ایک پہلے واقعے کی ہے۔ یہ ایک مربوط پروپیگنڈہ مہم کا حصہ ہے ،جس کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور عوام کو گمراہ کرنا ہے۔”

چین کا پروپیگنڈہ بے نقاب

اس سے قبل بدھ کو چین میں ہندوستان کے سفارت خانے نے چینی میڈیا آؤٹ لیٹ گلوبل ٹائمز کی اس رپورٹ پر سرزنش کی تھی کہ پاکستان کی فوج نے ہندوستانی لڑاکا طیارہ مار گرایا تھا اور ایسی رپورٹس شائع کرنے سے پہلے حقائق اور ذرائع کی تصدیق کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

بھار ت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read