دربھنگہ-میتھیلا کی زمین کا پانی نیچے جا رہا ہے اور یہ ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔جن ستہ پارٹی کے صدر، فلم ساز، مصنف، ماحولیاتی کارکن، آیوروید معالج اور سرپرست روی کے. پٹوا (Ravi K Patwa) نے کہا کہ جس انداز میں پانی کا حد سے زیادہ استحصال (استعمال) کیا جا رہا ہے، وہ تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
روی کے پٹوا نے پانی کے تحفظ کی اپیل کی
دربھنگہ میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے روی کے پٹوا نے کہا کہ زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی اور قدرتی آبی ذرائع کے ختم ہونے کی وجہ سے مستقبل میں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کھیتوں میں حد سے زیادہ بورنگ اور زیر زمین پانی کے استحصال سے نہ صرف پانی کی سطح گر رہی ہے بلکہ زمین کی زرخیزی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
روی کے پٹوا نے کہا کہ یہ صورتِ حال صرف دربھنگہ۔میتھیلا تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وقت پر پانی کے تحفظ کے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے وقت میں پانی کے لیے شدید بحران پیدا ہو جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پانی کے تحفظ کے لیے روایتی ذرائع جیسے تالاب، کنویں، جوہڑ وغیرہ کو دوبارہ زندہ کرنا ضروری ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کو ترجیح دینا ہوگی اور پانی کے استعمال میں احتیاط برتنا ہوگی۔
رودرابھشیک میں شامل ہوئے روی کے پٹوا
اس کے علاوہ فلم ساز روی کے پٹوا ساون کی تیسری سوموار کے موقع پر شری شری 108 بابا ہری داس جی مہادیو شیوالیہ کے احاطے میں منعقدہ بھجن سنگیت اور رودرابھشیک کے عظیم الشان پروگرام میں بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بھگوان مہادیو شیوجی سے سچے دل سے کچھ مانگا جائے تو وہ ضرور مراد پوری کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ زندگی میں نیک کام کریں اور اپنے ماں باپ، بہن، بیٹی اور خواتین کا احترام کریں۔
اسی موقع پر کُشاگر پٹوا نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ اپنے گھر کی طاقت یعنی ہماری ماں، بہنوں اور بیٹیوں کو دل سے عزت دینی چاہیے، کیونکہ یہی ہماری اصل طاقت ہیں۔
اس موقع پر بھجن سنگیت میں کئی فنکاروں نے بھگتی گیت پیش کیے۔ مندر کے احاطے میں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔ حاضرین نے شیولِنگ پر پانی، بیل پتر اور دودھ چڑھا کر رودرابھشیک کیا۔
پروگرام کی نظامت کرشنا، راکیش پٹوا اور رمیس پٹوا نے کی۔
پروگرام کو کامیاب بنانے میں پٹوا سماج کے تمام ارکان کا خاص تعاون رہا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



