عام آدمی پارٹی کے رہنما ایک بار پھر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ ای ڈی نے دہلی حکومت کے دورِ اقتدار میں سامنے آنے والے تین بڑے مبینہ گھوٹالوں میں منی لانڈرنگ کے کیس درج کر لیے ہیں۔ یہ معاملے اسپتال کی تعمیر، سی سی ٹی وی پروجیکٹ اور شیلٹر ہوم سے متعلق ہیں۔
ای ڈی AAP رہنماؤں کو پوچھ تاچھ کے لیے بلا سکتی ہے
ای ڈی نے ان معاملات میں انفورسمنٹ کیس انفارمیشن رپورٹ درج کر لی ہے اور جلد ہی عام آدمی پارٹی (AAP) کے اعلیٰ رہنماؤں کو پوچھ تاچھ کے لیے سمن بھیجے جا سکتے ہیں۔
معاملہ کیا ہے؟
پہلا معاملہ 5,590 کروڑ روپے کے اسپتال تعمیر گھوٹالے سے جڑا ہوا ہے۔ اس گھوٹالے میں سابق وزیر صحت سوربھ بھاردواج اور ستیندر جین کے کردار پر سوالات اٹھا رہے ہیں ۔ سال 2018-2019 میں دہلی حکومت نے 24 اسپتال منصوبوں کی منظوری دی تھی۔ ان ICU اسپتالوں کو چھ ماہ میں تیار کرنا تھا، لیکن تین سال بعد بھی تعمیراتی کام مکمل نہیں ہوا۔ اب تک تقریباً 800 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں، لیکن صرف 50 فیصد کام ہی مکمل ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، ایل این جے پی اسپتال کی لاگت 488 کروڑ سے بڑھ کر 1,135 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
دوسرا معاملہ 571 کروڑ روپے کے سی سی ٹی وی گھوٹالے سے جڑا ہے۔ 2019 میں دہلی کے 70 اسمبلی حلقوں میں 1.4 لاکھ سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ یہ ٹھیکہ بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (بی ای ایل) کو دیا گیا، لیکن منصوبہ وقت پر مکمل نہیں ہوا۔ بی ای ایل پر 17 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا، جسے بعد میں بغیر کسی واضح وجہ کے معاف کر دیا گیا۔
تیسرا معاملہ 207 کروڑ کی مالی بے ضابطگیوں سے جڑا ہے، جو دہلی اربن شیلٹر امپروومنٹ بورڈ (DUSIB) کے شیلٹر ہوم پروجیکٹ میں پایا گیا ہے۔ ان منصوبوں میں سنگین مالی بدعنوانیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
207 کروڑ کی ہیر پھیر کے الزامات
الزام ہے کہ فرضی فکسڈ ڈپازٹ رسیدوں کے ذریعے 207 کروڑ روپے کی ہیر پھیر کی گئی۔ لاک ڈاؤن کے دوران کاغذوں میں دکھایا گیا کہ 250 کروڑ روپے کا شیلٹر ہوم کا کام ‘گھوسٹ ورکرز’ کے نام پر ظاہر کیا گیا۔ ان فرضی ملازمین کی تنخواہیں دراصل رہنماؤں تک کمیشن کی صورت میں پہنچائی گئیں۔
ذرائع کے مطابق ان تمام معاملات کی پہلے ہی سی بی آئی اور اے سی بی تحقیقات کر رہی ہیں اور انہی ایجنسیوں کی ایف آئی آرز کی بنیاد پر اب ای ڈی نے منی لانڈرنگ کے مقدمات درج کیے ہیں۔ امکان ہے کہ جلد ہی عام آدمی پارٹی کے اہم رہنماؤں سے پوچھ گچھ کا آغاز ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


