امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ایک اہم ملاقات ہونے والی ہے۔ دونوں رہنما الاسکا میں بات چیت کریں گے۔ اس ملاقات سے پہلے ٹرمپ نے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت پر روس سے تیل خریدنے کے باعث لگائے گئے ٹیرف سے ماسکو کی معیشت کو زبردست جھٹکا لگے گا۔ انہوں نے بھارت کو روس کا دوسرا سب سے بڑا تیل خریدار قرار دیا۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پوتن پر طنز کرتے ہوئے کہا:”جب ایک امریکی صدر روس کے سب سے بڑے یا دوسرے سب سے بڑے تیل خریدار سے کہتا ہے کہ اگر تم نے روس سے تیل خریدا تو 50 فیصد ٹیرف لگے گا، تو یقیناً یہ اس کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔”
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ اس اقدام سے روس کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی۔
الاسکا میں ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات طے
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اگلے ہفتے پوتن اور ٹرمپ کی ملاقات ہونے والی ہے۔ ٹرمپ نے اس ملاقات کے بارے میں کہا:”میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ ان (پوتن) کے ذہن میں کیا چل رہا ہے۔ مجھے دو منٹ میں ہی اندازہ ہو جائے گا کہ کوئی معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔ شاید میں صرف نیک خواہشات دے کر واپس چلا جاؤں۔”
ٹرمپ نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف کیوں لگایا؟
امریکہ نے بھارت پر پہلے صرف 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، لیکن بعد میں اسے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ بھارت سے ناراض ہیں۔ انہیں بھارت کے روس سے تیل خریدنے پر اعتراض ہے۔ ٹرمپ نے روس پر جنگ کو ہوا دینے کا الزام بھی لگایا تھا۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ طے ہونا تھا، لیکن اس پر تاحال اتفاق نہیں ہو پایا ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ بھارت ڈیری اور زرعی شعبے میں سمجھوتہ کرے، لیکن بھارت اس کے لیے تیار نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


