پاکستانی خاتون کے ساتھ اپنی شادی کی حقیقت چھپانے کے الزام میں سی آر پی ایف سے برطرف کیے گئے منیر احمد نے اپنی وضاحت دی ہے۔ اے این آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا- میں نے محکمہ سے 2022 میں شادی کی اجازت مانگی تھی، لیکن اس میں تاخیر ہوئی۔ اس کے بعد 24 مئی 2024 کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پاکستانی مینل سے شادی کی۔ منیر نے بتایا کہ انہوں نے شادی کے بارے میں حکام کو بھی آگاہ کر دیا تھا۔ تمام ضروری کاغذات بھی انہیں دے دیے گئے۔ جس میں شادی کارڈ، شادی کے مقام اور بیوی کے ویزا سے متعلق معلومات تھیں۔
دراصل 3 مئی 2025 کو سی آر پی ایف نے منیر احمد کو نوکری سے برخاست کر دیا تھا۔ سی آر پی ایف نے کہا تھا- منیر نے پاکستانی خاتون کے ساتھ اپنی شادی کی حقیقت کو چھپایا اور اسے بغیر ویزا کے غیر قانونی طور پر ہندوستان میں رکھا، جو کہ قومی سلامتی کے خلاف ہے۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستانی شہریوں کو ہندوستان چھوڑنے کو کہا گیا تھا۔ 30 اپریل کو مینل کو بھی اٹاری بارڈر لے جایا گیا ،لیکن قانونی مداخلت کے بعد ان کی ملک بدری روک دی گئی۔
منیر احمد نے کہا مینل میرے ماموں کی بیٹی ہے
مینل میرے ماموں کی بیٹی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم سے پہلے میرا خاندان اور ان کا خاندان جموں و کشمیر میں رہتا تھا۔ فی الحال مینل کا خاندان پاکستان کے سیالکوٹ میں رہتا ہے۔ ہمارے درمیان تعلقات کا فیصلہ بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ 31 دسمبر 2022 کو میں نے حکام کو شادی کی اجازت کے حوالے سے خط لکھا۔ 24 جنوری 2023 کو افسران نے میرا خط کچھ اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا، جس میں شادی کا کارڈ، شادی کہاں ہو گی وغیرہ جیسی معلومات مانگی گئی تھیں۔
اس کے بعد میں نے شادی کارڈ سمیت دیگر معلومات کے ساتھ سندربن میں تعینات سی آر پی ایف کی 72ویں بٹالین کو خط واپس بھیج دیا۔ میں کمانڈنٹ صاحب سے بھی ملا۔ میرا خط ڈی آئی جی جموں رینج، سی آر پی ایف رینج آئی جی، جے اینڈ کے زون ایس ڈی جی، سی آر پی ایف دہلی کو گیا۔ مجھے تقریباً 5 ماہ بعد جواب ملا۔ جس میں لکھا تھا کہ ‘درخواست گزار نے محکمہ کو آگاہ کر دیا ہے’۔میرے والد کینسر کے مریض ہیں، دوسری طرف محکمہ سے لیٹر ملنے میں تاخیر ہوئی، مینل کو بھی ویزا نہیں مل رہا تھا۔ اسی وجہ سے دونوں خاندانوں نے ہماری شادی 24 مئی 2024 کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کرائی۔
تقریباً 9-10 ماہ کے بعد مینل کو ہندوستان کا وزٹ ویزا مل گیا۔ وہ 28 فروری 2025 کو ہندوستان آئی تھیں۔ میں نے اس بارے میں محکمہ کو آگاہ کر دیا تھا۔ میں نے ڈپٹی کمانڈنٹ کو بھی اطلاع کر دی تھی۔ شادی سے پہلے اور بعد میں میں نے مینل اور شادی سے متعلق تمام معلومات محکمہ کو دے دی تھیں۔ شادی کی تصاویر اور شادی کا کارڈ بھی دیا گیا۔ محکمہ کو بھی وقتاً فوقتاً آگاہ کیا گیا۔
ہم بے قصور ہیں، دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے
مینل نے کہا تھا- ہم بے قصور ہیں، دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مینل کو 30 اپریل کو پاکستان ڈی پورٹ کرنے کے لیے لے جایا جا رہا تھا، اس وقت مینل نے کہا تھا- ہم سب دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہیں، لیکن بے گناہوں کو سزا دینا کہاں کا انصاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وقت پر ویزہ میں توسیع کی درخواست دی تھی۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ منظوری مل جائے گی ،لیکن اب ہم میاں بیوی کو الگ کیا جا رہا ہے۔ بہت سے بچے اپنے والدین سے جدا ہو رہے ہیں۔ یہ غیر انسانی ہے۔مینل نے وزیر اعظم نریندر مودی سے انصاف کی اپیل بھی کی تھی اور کہا تھا کہ دہشت گردی کے نام پر معصوم لوگوں کو سزا دینا درست نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


