بدھ کے روز دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا پر اُس وقت حملہ ہوا جب وہ اپنے سرکاری رہائش گاہ پر ہفتہ وار عوامی سماعت (جن سنوائی) کر رہی تھیں۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور شخص کو گرفتار کر لیا ہے، جس کی عمر تقریباً 35 سال بتائی جا رہی ہے۔
دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا پر حملہ، ملزم گرفتار
One person apprehended and taken to Civil Lines Police Station in connection with attack on Delhi CM Rekha Gupta during Jan Sunvai at CM Residence: Delhi Police https://t.co/V3SAreaKgo
— ANI (@ANI) August 20, 2025
واقعے کی تفصیل:
حملہ وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ پر اُس وقت پیش آیا جب ایک شخص شکایت لے کر جن سنوائی میں شامل ہوا۔جیسے ہی وہ شخص ریکھا گپتا کے قریب پہنچا، پہلے اُس نے کچھ کاغذات تھمائے، پھر چلّانا شروع کیا اور تھپڑ مار دیا۔حملے کے بعد پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے شخص کو حراست میں لے کر سول لائن پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔
عینی شاہد انجلی کا بیان:
جائے وقوع پر موجود انجلی نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا:”یہ بہت غلط ہے۔ ہر کسی کو جن سنوائی (عوامی سماعت) میں شامل ہونے کا حق ہے۔ اگر کوئی بھیس بدل کر آنے والا شخص وزیراعلیٰ کو تھپڑ مار سکتا ہے، تو یہ واقعی ایک سنجیدہ بات ہے۔ میں وہاں موجود تھی… وہ شخص بات کر رہا تھا اور اچانک اُس نے تھپڑ مار دیا۔ پولیس اُسے لے گئی ہے…”
یہ بیان واقعے کی سنگینی اور سیکیورٹی کی خامیوں کی جانب واضح اشارہ کرتا ہے۔ اگر ایک عام شکایت کنندہ کے بھیس میں آیا شخص وزیراعلیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور حملہ کر سکتا ہے، تو یہ نہ صرف ایک سیکورٹی بریچ ہے بلکہ جمہوری اداروں کی شفافیت اور عوامی رابطے کے نظام پر بھی سوال کھڑا کرتا ہے۔
#WATCH | Attack on Delhi CM Rekha Gupta during Jan Sunvai | Anjali, who was present at the spot, says, “This is wrong. Everyone has the right to Jan Sunvai. If an imposter can slap her, this is a big deal…I was there…The person was speaking and he suddenly slapped. Police… pic.twitter.com/fsQCY8Jl0P
— ANI (@ANI) August 20, 2025
سیاسی ردِ عمل:
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



