ملکی سیاسی و جمہوری اقدار کے لیے یہ وقت نہایت تشویشناک ہے، جب ہماری جمہوری نظام کے ایک اہم ستون — وزیر اعلیٰ کے عہدے کو زینت بخشنے والی محترمہ ریکھا گپتا پر حملہ کیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ جمہوریت، آئینی اقدار اور خواتین کی عزت و وقار پر بھی حملہ ہے۔
اس بزدلانہ حملے کی پورے ملک میں سخت مذمت کی جا رہی ہے۔ سینئر رہنما جناب منوج تیواری نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:”محترمہ وزیر اعلیٰ @gupta_rekha جی پر کیا گیا حملہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ یہ جمہوری اقدار پر حملہ ہے۔ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔” — منوج تیواری
कुछ लोग, जो दिल्ली के दुश्मन हैं, इस बात से परेशान हैं कि अब दिल्ली की मुख्यमंत्री इतनी सिद्दत से जनसुनवाई क्यों कर रही है.. पर ऐसे हमले जनसुनवाई नहीं रुकवा सकते.. @gupta_rekha @BJP4Delhi https://t.co/UlI1xBLgWh
— Manoj Tiwari (@ManojTiwariMP) August 20, 2025
جمہوریت میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں
بھارت جیسے عظیم جمہوری ملک میں خیالات کا اختلاف قابلِ قبول ہے، لیکن اختلافِ رائے کا جواب تشدد سے دینا جمہوریت کی روح کو مجروح کرتا ہے۔ ریکھا گپتا جی نے ہمیشہ پرامن اور آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے عوام کی خدمت کی ہے۔ ان پر کیا گیا یہ حملہ نہ صرف قانون و نظم و ضبط کے لیے ایک آزمائش ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔
قانون و انصاف کے نظام کو چیلنج
ایسے واقعات قانون و امن و امان کی صورتحال پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ عوام کو تحفظ کا یقین دلانا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس قسم کے واقعات سے عام شہری کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔
سوسائٹی کے ہر طبقے، ہر نظریے اور ہر سیاسی جماعت کو مل کر ایسے تشدد کی مخالفت کرنی چاہیے۔ ہمیں اجتماعی طور پر یہ طے کرنا ہوگا کہ جمہوری اقدار کا تحفظ ہو اور خواتین قیادت کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
