نیپال میں پیر کے روز نوجوانوں(جنریشن زی) کا حکومت مخالف مظاہرہ پرتشدد ہوگیا۔ نیپال کے پی ایم کے پی شرما اولی نے ملک میں جاری شدید حکومت مخالف مظاہروں کے پیش نظر منگل کو استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہیں مظاہرین نے صدر رام چندر پاؤڈیل سمیت کئی اعلیٰ سیاسی رہنماؤں کی ذاتی رہائش گاہوں پر حملہ کیا اور پارلیمنٹ کی عمارت میں توڑ پھوڑ کی۔ ذرائع کے مطابق مظاہروں کے دوران 22 افراد ہلاک ہو گئے، جب کہ 500 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پرتشدد مظاہروں کے پیش نظر نیپال حکومت نے پیر کی رات سوشل میڈیا پر عائد پابندی ہٹا دی ہے۔ اب تک نیپال میں وزیر داخلہ رمیش لیکھک سمیت تین وزراء استعفیٰ دے چکے ہیں۔
نیپالی فوج نے غیر ملکی شہریوں کے لیے جاری کی ایڈوائزری
نیپال کی فوج نے ملک میں موجود غیر ملکی شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ اگر وہ کہیں پھنسے ہوئے ہیں ،تو نزدیکی سیکورٹی ایجنسی یا قریبی موجود سیکورٹی فورسز سے فوری رابطہ کریں تاکہ ان کی مدد کی جا سکے اور انہیں ریسکیو کیا جا سکے۔ فوج نے کہا ہے کہ جو بھی مدد چاہتا ہے یا ملک سے نکلنا چاہتا ہے، وہ فوراً مقامی سیکورٹی فورسز سے رابطہ کرے۔ فوج نے تمام ہوٹل مالکان اور ٹور آپریٹرز سے بھی کہا ہے کہ وہ تعاون کریں اور غیر ملکی شہریوں کو ہر ممکن مدد فراہم کریں۔
نیپال میں تشدد کے بعد یوپی کے ان 7 اضلاع میں الرٹ
نیپال میں جاری پرتشدد مظاہروں کے پیش نظر بھارت کی سرحد سے متصل اترپردیش کے سات اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ بھارت-نیپال کی سرحد سے ملحق مہاراج گنج، سدھارتھ نگر، بلرامپور، شراوستی، بہرائچ، لکھیم پور کھیری اور پیلی بھیت اضلاع میں سرحدی سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ یہاں مسلح سرحدی فورس (SSB)، مقامی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کو بھی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
نیپالی آرمی چیف کی مظاہرین کو آخری وارننگ
نیپال کے فوجی سربراہ جنرل اشوک راج سگڈیل نے مظاہرین کو آخری وارننگ دی ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے سخت انتباہ دیتے ہوئے اپیل کی ہے کہ مظاہرین احتجاج بند کریں اور بات چیت کا راستہ اپنائیں۔ انہوں نے کہا: اگر تشدد، لوٹ مار اور آگ زنی نہیں رکی تو رات 10 بجے سے پورے ملک میں فوج اور سیکورٹی ایجنسیاں تعینات کر دی جائیں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

