12 جون کو احمد آباد میں ہونے والے خوفناک طیارہ حادثے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس حادثے میں 260 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ اب اس افسوسناک واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ چکی ہے۔ ایئر انڈیا کے سی ای او اور ایم ڈی کیمبل ولسن نے اس رپورٹ پر اپنا بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ ابتدائی تحقیق میں طیارے کے انجن میں کسی قسم کی کوئی خرابی نہیں پائی گئی۔
ولسن نے ایئر انڈیا کے ملازمین اور مسافروں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تمام ضروری دیکھ بھال کے کام وقت پر مکمل کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق پرواز کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کے معیار میں بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا اور ٹیک آف کے دوران کسی قسم کی غیر معمولی صورتحال سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پرواز سے قبل دونوں پائلٹوں نے بریتھلائزر ٹیسٹ پاس کیا تھا اور ان کی صحت بھی مکمل طور پر اچھی تھی۔
On Aircraft Accident Investigation Bureau released preliminary report on the Air India plane crash, Air India CEO Campbell Wilson says, “The Preliminary Report found no mechanical or maintenance issues with the aircraft or engines, and that all mandatory maintenance tasks had… pic.twitter.com/f3BFRKKd8x
— ANI (@ANI) July 14, 2025
جلد بازی میں نتیجہ اخذ نہ کریں
ایئر انڈیا نے کہا ہے کہ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ ہر تحقیق کا سامنا کر رہے ہیں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی نتیجے پر جلد بازی میں نہ پہنچیں۔ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بیورو (AAIB) نے ہفتے کے روز بوئنگ 787-8 طیارے کے حادثے پر 15 صفحات پر مشتمل ابتدائی رپورٹ جاری کی ہے۔ تاہم، اس رپورٹ میں حادثے کی وجہ کا واضح ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ولسن نے کہا کہ ہم تحقیقاتی عملے سے مکمل تعاون کر رہے ہیں تاکہ وہ ہر پہلو کی گہرائی سے جانچ کر سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد ایئر انڈیا کے بیڑے میں شامل تمام بوئنگ 787 طیاروں کی احتیاط سے جانچ کی گئی، جس میں کوئی خرابی نہیں پائی گئی۔ مستقبل میں بھی تمام تحقیقات جاری رہیں گی اور اگر حکام کی طرف سے کسی نئی جانچ کا مطالبہ کیا گیا، تو اسے بھی ترجیح دی جائے گی۔
پائلٹوں کی تنظیم نے ناراضگی کا اظہار کیا
رپورٹ کے مطابق، کاک پٹ وائس ریکارڈر کی ریکارڈنگ سے پتہ چلا کہ پرواز کے دوران ایک پائلٹ نے دوسرے پائلٹ سے سوال کیا کہ سوئچ کیوں بند کیا گیا، تو اس نے کہا کہ اس نے ایسا نہیں کیا۔ اسی بات کو لے کر پائلٹوں کی تنظیم ALPA-India نے اعتراض درج کرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیق کے دوران خفیہ معلومات کو عوام کے سامنے لایا جا رہا ہے، جو کہ تشویش کی بات ہے۔ ان کا الزام ہے کہ پائلٹوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
تھروٹل کنٹرول ماڈیول دو بار تبدیل کیے گئے تھے
خبروں کے مطابق جس طیارے میں حادثہ پیش آیا، اس میں پچھلے چھ سالوں کے دوران تھروٹل کنٹرول ماڈیول (TCM) کو دو مرتبہ تبدیل کیا گیا تھا۔ یہ ماڈیول انجن میں ایندھن کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پرواز کے دوران دونوں انجنوں کے فیول کنٹرول سوئچ اچانک “رن” سے “کٹ آف” پوزیشن میں چلے گئے۔ صرف ایک سیکنڈ کے اندر ایسا ہونے سے طیارہ تیزی سے نیچے آیا اور حادثہ ہوگیا۔ حکام کی ہدایات کے مطابق تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مستقبل میں اس قسم کا کوئی سانحہ نہ ہو۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



