آج (18 فروری) کی صبح کروڑوں بھارتیوں اور دیگر کئی ممالک کے لوگوں کے لیے کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں تھی۔ جیسے ہی لوگوں نے اپنا فون کھولا تو اسکرین پر ’Something Went Wrong‘ کا پیغام نظر آیا، کیونکہ دنیا کا سب سے مقبول ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم یوٹیوب اچانک بند ہو گیا تھا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر شکایات کی باڑھ آ گئی۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
بدھ سے ہی یوٹیوب کے ایپ اور ڈیسک ٹاپ ورژن، دونوں میں تکنیکی خرابیاں سامنے آ رہی تھیں۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ نہ تو صارفین درست طریقے سے ویڈیوز دیکھ پا رہے تھے اور نہ ہی کوئی مواد اپ لوڈ کر پا رہے تھے۔ اس کے فوراً بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ اور انسٹاگرام پر #youtubedown ٹرینڈ کرنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں 10 ہزار سے زائد افراد نے اس مسئلے کے حوالے سے اپنی شکایات درج کرا دیں۔
یوٹیوب ٹیم کا پہلا بیان
جب یوٹیوب پر یہ خرابی شروع ہوئی تو گوگل نے ابتدائی طور پر TeamYouTube کے ذریعے ایک بیان جاری کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ تکنیکی مسئلہ پیش آیا ہے۔ بیان میں کہا گیا، “ہمیں معلوم ہے کہ آپ میں سے کئی افراد کو یوٹیوب استعمال کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ ہماری ٹیم اس مسئلے پر کام کر رہی ہے اور جیسے ہی کوئی تازہ اطلاع ملے گی، ہم آپ کو آگاہ کریں گے۔”بعد ازاں گوگل نے ایک اور بیان جاری کرتے ہوئے کہا، “ہم واپس آ گئے ہیں!! یوٹیوب پر پیش آنے والا مسئلہ حل کر دیا گیا ہے۔ تمام رپورٹس اور مسئلے کے حل کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر آپ کا شکریہ۔”
طلبہ اور کریئیٹرز کی دھڑکنیں تیز
آج کے دور میں یوٹیوب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ لاکھوں افراد کی روزی روٹی اور تعلیم کا اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ اس آؤٹج کا سب سے زیادہ اثر ان طلبہ پر پڑا جن کی لائیو کلاسز جاری تھیں یا وہ امتحانات کی تیاری یوٹیوب کے ذریعے کر رہے تھے۔ دوسری جانب کانٹینٹ کریئیٹرز اور ڈیجیٹل مارکیٹرز کے لیے بھی یہ صورتحال کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھی، کیونکہ ان کے روزانہ کے کیمپین اور ویڈیو شیڈول مکمل طور پر متاثر ہو گئے۔
ایکسپرٹس کی رائے: ایسا کیوں ہوا؟
گوگل کی جانب سے اگرچہ ابھی تک تفصیلی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بڑے خلل کے پیچھے کئی تکنیکی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ممکن ہے سرور کنفیگریشن میں کسی انسانی غلطی یا نئے اپ ڈیٹ کے دوران آنے والے کسی بگ نے پورے سسٹم کو متاثر کر دیا ہو۔ اس کے علاوہ بیک وقت کروڑوں ہٹس آنے سے سرور اوورلوڈ ہونا یا کسی بڑے سائبر حملے کے امکان کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔
پریشانی کے بیچ میمز کی بھرمار
جہاں ایک طرف کام رکنے سے لوگ پریشان تھے، وہیں سوشل میڈیا پر میمز بنانے والوں کو نیا موضوع مل گیا۔ انسٹاگرام اور ایکس (X) پر صارفین گوگل کے انجینئرز کی صورتحال پر مزاحیہ تبصرے کرتے نظر آئے۔ کچھ افراد نے دلچسپ ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے یہ بھی دکھایا کہ یوٹیوب بند ہوتے ہی پوری دنیا خود کو اچانک ’’بے روزگار‘‘ محسوس کرنے لگی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


