بھارت میں کورونا وائرس کے کیسز ایک بار پھر تیزی سے بڑھنے لگے ہیں۔ اوماکرون کے نئے سب ویریئنٹ JN.1 کے پھیلاؤ نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ کئی ریاستوں میں 100 سے زیادہ فعال کیسز درج کیے گئے ہیں، خاص طور پر کیرالہ، مہاراشٹرا اور دہلی میں۔ حکومتیں الرٹ ہیں اور عوام کو ماسک پہننے، ہاتھ دھونے اور ویکسین کی بوسٹر ڈوز لگوانے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔ اموات کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے احتیاط برتنا ضروری ہو گیا ہے۔
ملک میں ایک بار پھر کورونا کی دستک نے تشویش بڑھا دی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے انفیکشن کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں فعال مریضوں کی تعداد 3300 سے تجاوز کر چکی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اوماکرون کے نئے سب ویریئنٹ JN.1 کے پھیلاؤ سے حالات ایک بار پھر سنگین ہو سکتے ہیں۔ مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر مرکزی اور ریاستی حکومتیں الرٹ موڈ میں آ گئی ہیں۔ ملک میں 8 ایسی ریاستیں ہیں جہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں کچھ ریاستوں میں اموات بھی درج کی گئی ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس انفیکشن سے 4 مزید اموات ہوئیں، جبکہ ایک دن قبل 7 اموات ہوئی تھیں۔ اتر پردیش، دہلی، کرناٹک اور کیرالہ میں ایک ایک موت ریکارڈ کی گئی۔ یکم جنوری 2025 سے بھارت میں کورونا سے متعلقہ 26 اموات ہو چکی ہیں۔ ملک بھر میں 1435 مریض صحتیاب ہو کر اسپتال سے ڈسچارج ہو چکے ہیں۔ مسلسل بڑھتی اموات کی تعداد تشویش کا باعث ہے، اسی لیے کئی ریاستوں میں کورونا کے حوالے سے احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے، اور کورونا پروٹوکول پر عمل کرنے کا بھی مشورہ دیا جا رہا ہے۔
8 ریاستیں جہاں 100 سے زائد کیسز ہیں:
دہلی میں 375 کیسز
گجرات میں 265 کیسز
کرناٹک میں 234 کیسز
کیرالہ میں 1336 کیسز
مہاراشٹرا میں 467 کیسز
تمل ناڈو میں 185 کیسز
مغربی بنگال میں 205 کیسز
اتر پردیش میں 117 کیسز
ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ فعال کیسز کیرالہ میں ہیں، جو کہ کل کیسز کا تقریباً 40 فیصد بنتے ہیں۔ اس کے بعد مہاراشٹرا، دہلی اور گجرات میں کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
اوماکرون سب ویریئنٹ JN.1 کا پھیلاؤ
ماہرین کے مطابق، اوماکرون کا نیا سب ویریئنٹ JN.1، جو سب سے پہلے کیرالہ میں پایا گیا تھا، اب دوسرے ریاستوں میں بھی پھیل رہا ہے۔ اس کی وجہ سے انفیکشن کی شرح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور صحت کے حکام کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ویریئنٹ پچھلے ویریئنٹس کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، اسی لیے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کرناٹک حکومت کی طلبہ کے لیے ایڈوائزری
کرناٹک حکومت نے ریاست میں کووڈ-19 کی صورت حال اور اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کے پیش نظر والدین سے کہا ہے کہ اگر ان کے بچوں میں بخار، کھانسی، زکام یا دیگر علامات پائی جائیں تو انہیں اسکول نہ بھیجیں۔ پی ٹی آئی کے حوالے سے جاری سرکلر میں کہا گیا ہے کہ بچوں میں علامات ظاہر ہونے پر انہیں گھر پر ہی رکھیں اور ڈاکٹر کے مشورے سے مناسب علاج و نگہداشت کریں۔
صحت کے محکمے نے کہا ہے کہ اگر بچے بخار، کھانسی یا زکام کی علامات کے ساتھ اسکول آتے ہیں تو ان کے والدین کو مطلع کیا جائے اور بچوں کو واپس گھر بھیج دیا جائے۔ اگر اساتذہ یا دیگر اسکول اسٹاف میں یہ علامات پائی جاتی ہیں تو انہیں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عوام کے لیے احتیاطی تدابیر:
ماسک پہنیں اور بھیڑ والی جگہوں سے بچیں
ہاتھ دھونے کی عادت اپنائیں
ہلکی علامات کو بھی نظرانداز نہ کریں
ویکسین کی بوسٹر ڈوز وقت پر لگوائیں
مرکزی حکومت کی تیاری
کووڈ-19 کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر مرکزی صحت اور آیوش وزیر مملکت (آزادانہ چارج) پرتاپ راؤ جادھو نے جمعہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مرکزی حکومت کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی صحت محکمہ اور آیوش وزارت پوری طرح الرٹ ہے اور تمام ریاستوں میں کووڈ کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
حکومت نے کہا – ہر صورت حال سے نمٹنے کے قابل ہیں
پرتاپ راؤ جادھو نے کہا کہ حکومت نے پچھلی کووڈ لہروں سے حاصل تجربات کی بنیاد پر اپنی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آکسیجن پلانٹس، آئی سی یو بیڈز اور دیگر بنیادی طبی ڈھانچے کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔ ہماری صحت کی سہولیات مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی ابھرتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
وزیر موصوف نے یہ بھی بتایا کہ مرکز نے ریاستی سطح کے صحت سیکریٹریز، آیوش سیکریٹریز اور متعلقہ وزرا سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے ساتھ کسی بھی ممکنہ صحت بحران سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

