میرٹھ: اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں وقف املاک سے متعلق ایک بڑے گھوٹالے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں تقریباً 1000 کروڑ روپے مالیت کی زمین کو فرضی دستاویزات کے ذریعے فروخت کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس سنسنی خیز کیس میں پولیس نے ضیاء عباس، علی زیدی سمیت کئی بااثر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے، جس کے بعد انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب معاملے کی شکایت ریاستی گورنر تک پہنچی۔ گورنر کو موصول شکایت کے بعد ریاستی حکومت حرکت میں آئی اور میرٹھ انتظامیہ کو فوری اور سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی۔ اس کے بعد ضلع اقلیتی بہبود محکمہ نے تحقیقات کرتے ہوئے کنکرکھیڑا پولیس اسٹیشن میں باضابطہ تحریر دی، جس کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک منظم گروہ نے وقف کی قیمتی زمینوں کے جعلی سیل ڈیڈ (بیع نامے) تیار کیے اور انہیں مختلف خریداروں کو فروخت کر دیا۔ اس غیر قانونی سرگرمی کے ذریعے کروڑوں روپے کی جائیداد کو خرد برد کیا گیا۔ پولیس نے اس معاملے میں تعزیرات ہند کی مختلف دفعات 318(4)، 338، 336(3)، 340(2) اور 351(3) کے تحت کیس درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس گھوٹالے میں کئی بااثر اور جرائم پیشہ افراد ملوث ہیں۔ نامزد ملزمان میں ضیاء عباس، روہتاس پہلوان، رفاقت علی گاندھی، اشوک مارواڑی اور علی زیدی شامل ہیں۔ الزام ہے کہ ان افراد نے ملی بھگت کے تحت جعلی کاغذات تیار کروا کر وقف املاک کو غیر قانونی طور پر فروخت کیا۔
اس معاملے نے رجسٹرار آفس یعنی محکمۂ رجسٹریشن کے کردار پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ضلع اقلیتی بہبود افسر نے پہلے ہی رجسٹرار کو خط لکھ کر ان زمینوں کے بیع نامے نہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس کے باوجود ان جائیدادوں کی رجسٹری ہو جانا محکمانہ لاپروائی یا ممکنہ ملی بھگت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
پولیس اب اس پہلو کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ کن سرکاری ملازمین نے ان فرضی دستاویزات کو منظوری دی اور اس غیر قانونی عمل میں سہولت فراہم کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید گرفتاریاں بھی ممکن ہیں اور تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف وقف املاک کے تحفظ پر سوالیہ نشان ہے بلکہ سرکاری نظام کی شفافیت پر بھی بحث چھیڑ رہا ہے۔ عوامی حلقوں میں اس بات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ اس گھوٹالے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


