Bharat Express DD Free Dish

Amroha Child Death: ریلز دیکھتے دیکھتے اچانک تھم گئیں 10 سالہ معصوم کی سانسیں، امروہہ میں ہنستا کھیلتا گھر ماتم میں تبدیل

اتر پردیش کے ضلع امروہہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں گھر میں موبائل پر ریلز دیکھتے ہوئے ایک 10 سالہ بچے کی اچانک موت ہو گئی۔ چند لمحوں میں خوشیوں سے بھرا گھر چیخ و پکار اور ماتم میں تبدیل ہو گیا۔ اہل خانہ نے بچے کا پوسٹ مارٹم کرائے بغیر ہی آخری رسومات ادا کر دیں، جس کی وجہ سے موت کی اصل وجہ سامنے نہیں آ سکی۔

اتر پردیش کے ضلع امروہہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں گھر میں موبائل پر ریلز دیکھتے ہوئے ایک 10 سالہ بچے کی اچانک موت ہو گئی۔ یہ واقعہ منڈی دھنورا علاقے کا ہے، جہاں چند لمحوں میں خوشیوں سے بھرا گھر چیخ و پکار اور ماتم میں تبدیل ہو گیا۔ اہل خانہ نے بچے کا پوسٹ مارٹم کرائے بغیر ہی آخری رسومات ادا کر دیں، جس کی وجہ سے موت کی اصل وجہ سامنے نہیں آ سکی۔ بتایا جا رہا ہے کہ منگل کی شام دیگر دنوں کی طرح معمول کے مطابق تھی۔ گھر میں ماں کچن کے کاموں میں مصروف تھیں جبکہ والد آنگن میں اپنے روزمرہ کے کام انجام دے رہے تھے۔ اسی دوران چوتھی جماعت میں پڑھنے والا 10 سالہ میَنک پلنگ پر لیٹے لیٹے موبائل فون پر ریلز دیکھ رہا تھا۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ چند ہی لمحوں میں یہ عام سی شام ایک المناک سانحے میں بدل جائے گی۔

اچانک میَنک کا جسم ڈھیلا پڑ گیا اور وہ پلنگ سے نیچے لڑھک گیا۔ گرنے کی آواز سن کر اہل خانہ گھبرا کر کمرے کی طرف دوڑے، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ بچے کے جسم میں کوئی حرکت نہیں تھی اور اس کی سانسیں تھم چکی تھیں۔ یہ منظر دیکھتے ہی ماں کی چیخیں نکل گئیں اور گھر کا ماحول سوگ میں ڈوب گیا۔ میَنک اپنے والد دیپک کمار اور والدہ پُشپا دیوی کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ خاندان میں اس کا ایک چھوٹا بھائی شِوَم بھی ہے۔ والدین کے مطابق، پہلے تو انہیں لگا کہ بچے کو چکر آ گیا ہے، مگر جب وہ بے حس و حرکت پڑا رہا تو فوراً اسے اٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔

اہل خانہ میَنک کو دھنورا کے ایک نجی اسپتال لے گئے، جہاں ڈاکٹروں نے معائنہ کے بعد اسے مردہ قرار دے دیا۔ یہ خبر سنتے ہی والدین پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ماں غم سے نڈھال ہو گئیں اور بار بار بے ہوش ہونے لگیں، جبکہ والد اپنے آنسو ضبط نہ کر سکے۔ اسپتال سے لاش گھر لانے کے بعد گاؤں والوں کو واقعے کی اطلاع دی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورے گاؤں میں معصوم بچے کی موت کی خبر پھیل گئی اور سوگ کی فضا قائم ہو گئی۔ تاہم اہل خانہ نے کسی قانونی کارروائی کے بغیر ہی بچے کی آخری رسومات ادا کر دیں، جس کے باعث موت کی وجہ واضح نہیں ہو سکی۔

واقعے کے بعد علاقے میں مختلف طرح کی چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ کچھ لوگ اسے موبائل فون کے زیادہ استعمال یا ممکنہ ریڈی ایشن سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ بعض افراد بچوں میں بڑھتے ہوئے دل کے دورے کو اس کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم حقیقت کیا ہے، یہ پوسٹ مارٹم نہ ہونے کے باعث معلوم نہیں ہو سکا۔ وجہ جو بھی ہو، ایک ہنستا کھیلتا بچہ یوں اچانک دنیا سے رخصت ہو جانا ہر دل کو جھنجھوڑ دینے والا ہے۔ اس حادثے کے بعد خاندان کا برا حال ہے اور پورا علاقہ غم اور افسوس میں ڈوبا ہوا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read