Bharat Express DD Free Dish

Protocol during Marco Rubio’s Visit to India: بھارت نے جان بوجھ کر امریکی سینیٹر مارکو روبیو کا پروٹوکول کم کیا، دورۂ ہند نے امریکہ کو دیا سخت سفارتی پیغام

سفارتی ماہرین کے مطابق بھارت نے واضح پیغام دیا کہ وہ واشنگٹن کے اثر و رسوخ سے متاثر ہو کر اپنے طے شدہ سفارتی اصولوں میں غیر معمولی نرمی یا خصوصی رعایت دینے کے حق میں نہیں ہے۔ اس دورے کے دوران روبیو نے دہلی کے علاوہ جے پور، کولکاتا اور آگرہ کا بھی دورہ کیا،

نئی دہلی :امریکی سیاست کے بااثر سینیٹر مارکو روبیو کے حالیہ دورۂ بھارت کو عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں معمول کے دوطرفہ دورے کے بجائے بھارت کی ’’اسٹریٹجک خودمختاری‘‘ کی ایک بڑی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر بین الاقوامی تجزیاتی پلیٹ فارمز تک یہ سوال مسلسل زیر بحث ہے کہ کیا نئی دہلی نے جان بوجھ کر روبیو کے استقبال اور پروٹوکول کو محدود رکھا؟ ماہرینِ بین الاقوامی تعلقات کا ماننا ہے کہ سفارت کاری میں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جاتا ہے اور اس کے پیچھے واضح سیاسی پیغام پوشیدہ ہوتا ہے۔اس پورے معاملے کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ بین الاقوامی سفارتی اصولوں کے مطابق پروٹوکول کسی شخصیت کے عہدے اور دورے کی نوعیت کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے۔ مارکو روبیو اگرچہ امریکی سینیٹ کی اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان کا یہ دورہ کسی سربراہِ مملکت یا سربراہِ حکومت کے طور پر نہیں تھا بلکہ ایک پارلیمانی یا قانون ساز وفد کے رکن کی حیثیت سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کسی مرکزی وزیر کے بجائے وزارتِ خارجہ کے ایک پروٹوکول افسر نے کیا۔

سفارتی ماہرین کے مطابق بھارت نے واضح پیغام دیا کہ وہ واشنگٹن کے اثر و رسوخ سے متاثر ہو کر اپنے طے شدہ سفارتی اصولوں میں غیر معمولی نرمی یا خصوصی رعایت دینے کے حق میں نہیں ہے۔ اس دورے کے دوران روبیو نے دہلی کے علاوہ جے پور، کولکاتا اور آگرہ کا بھی دورہ کیا، لیکن کہیں بھی کسی وزیر اعلیٰ یا گورنر نے ان سے باضابطہ ملاقات نہیں کی۔ اطلاعات کے مطابق ان شہروں کا دورہ سرکاری نوعیت کے بجائے ثقافتی اور نجی سیاحت کے دائرے میں رکھا گیا تھا، اسی لیے ریاستی حکومتوں نے صرف سکیورٹی پروٹوکول تک خود کو محدود رکھا۔دورے کا سب سے زیادہ چرچا اس وقت ہوا جب وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران مارکو روبیو کی موجودگی میں روس کے ساتھ بھارت کے دیرینہ اور مضبوط تعلقات کا کھل کر ذکر کیا۔ امریکہ طویل عرصے سے بھارت پر دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ وہ روس سے خام تیل کی خریداری کم کرے اور دفاعی تعاون محدود بنائے، لیکن جے شنکر نے واضح الفاظ میں کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی صرف اپنے قومی مفادات اور 140 کروڑ عوام کی ضروریات کے مطابق طے کی جاتی ہے۔

اس بیان کو عالمی سفارتی حلقوں میں بھارت کے سخت اور خودمختار مؤقف کے طور پر دیکھا گیا۔ مبصرین کے مطابق یہ اشارہ تھا کہ نیا بھارت اب عالمی طاقتوں کے دباؤ میں آنے کے بجائے اپنے مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔دورے کے اختتام پر کواڈ ممالک کی گروپ تصویر بھی خاصی زیر بحث رہی۔ تجزیہ کاروں نے تصویر میں مارکو روبیو کی پوزیشن کو بھی ایک سفارتی اشارہ قرار دیا اور کہا کہ بھارت نے علامتی انداز میں یہ واضح کر دیا کہ اب وہ مغربی طاقتوں کے سامنے روایتی جھکاؤ کی پالیسی سے آگے بڑھ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق آج کا بھارت نہ صرف دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے بلکہ بحرالکاہل خطے میں اس کی اہمیت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ امریکہ کو بھی نئی دہلی کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات رکھنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read