اتر پردیش میں بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں بڑی تبدیلی لانے والا گنگا ایکسپریس وے منصوبہ اب اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے اور 29 اپریل کو وزیر اعظم نریندر مودی اسے قوم کے نام وقف کریں گے۔تقریباً 594 کلومیٹر طویل یہ ایکسپریس وے نہ صرف ملک کے سب سے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں شامل ہے بلکہ اسے یوگی حکومت کی حکمتِ عملی اور اتر پردیش ایکسپریس وے صنعتی ترقیاتی اتھارٹی (یوپیڈا) کے مؤثر نفاذ کی ایک کامیاب مثال بھی مانا جا رہا ہے۔ تقریباً 37 ہزار کروڑ روپے لاگت والے اس میگا پروجیکٹ کو چار بڑے پیکیجز (گروپس) میں تقسیم کر کے تیزی سے مکمل کیا گیا، اور یہی ’ملٹی پیکیج‘ ماڈل اس کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوا۔
چار حصوں میں تقسیم کر کے کیا گیا کام
گنگا ایکسپریس وے کی تعمیر کو چار حصوں میں تقسیم کر کے مختلف ایجنسیوں کے ذریعے بیک وقت کام کرایا گیا، جس سے رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ پہلے پیکیج کی لمبائی 129.70 کلومیٹر ہے جس کی لاگت 9 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ دوسرے پیکیج کی لمبائی 151.70 کلومیٹر اور لاگت تقریباً 9 ہزار کروڑ روپے ہے۔تیسرے پیکیج کی لمبائی 155.70 کلومیٹر ہے جس پر بھی تقریباً 9 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے، جبکہ چوتھا اور سب سے بڑا پیکیج 156.847 کلومیٹر طویل ہے جس کی لاگت تقریباً 9.5 ہزار کروڑ روپے ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر کام شروع کیا گیا، جس سے نہ صرف رفتار بڑھی بلکہ جوابدہی بھی یقینی بنی۔
اس پورے منصوبے کی نگرانی یوپیڈا نے سختی سے کی
اس پورے منصوبے کی نگرانی یوپیڈا نے سختی سے کی، جس نے ڈیزائن، تعمیر اور معیار کے ہر مرحلے پر مسلسل نظر رکھی۔ باقاعدہ جائزوں اور تکنیکی ہم آہنگی کی بدولت تمام پیکیجز میں کام مقررہ وقت کے مطابق مکمل ہوا۔یہ ایکسپریس وے صرف سفری سہولت تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اسے ایک اقتصادی راہداری کے طور پر بھی ترقی دی جا رہی ہے۔ اس سے جڑے انٹیگریٹڈ مینوفیکچرنگ اور لاجسٹکس کلسٹر ریاست میں صنعتی ترقی کو نئی رفتار دیں گے۔ یہ مغربی اتر پردیش کو مشرقی حصوں سے جوڑ کر سفر کا وقت کم کرے گا، لاگت گھٹائے گا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کرے گا، جس سے ریاست کو ایک مضبوط صنعتی اور لاجسٹکس حب بنانے میں مدد ملے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



