Bharat Express DD Free Dish

ED investigation: طیارہ اور ہیلی کاپٹر خریدنے کیلئے ترنمول کانگریس نے کیئرویل ایوی ایشن کو 160 کروڑ روپے کیے منتقل، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا بڑا دعویٰ

منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں بڑا انکشاف کرتے ہوئے ای ڈی نے کہا ہے کہ ایمبریئر لیگیسی 600 طیارہ اور اگسٹا 109 ایس پی ہیلی کاپٹر خریدنے میں پارٹی فنڈ کا استعمال کیا گیا۔ کولکاتا سمیت پانچ مقامات پر چھاپے کی کارروائی انجام دی گئی۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات میں دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی نے 2023 سے 2026 کے درمیان 160 کروڑ روپے کیئرویل ایوی ایشن انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ اور اس سے وابستہ کمپنیوں کو منتقل کیے، جن میں سے بڑی رقم ایمبریئر لیگیسی 600 طیارہ اور اگسٹا 109 ایس پی ہیلی کاپٹر کی خریداری پر خرچ کی گئی۔ ای ڈی کے مطابق یہ انکشاف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت جاری تحقیقات کے دوران سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں منگل کو کولکاتا اور اس کے اطراف میں واقع کیئر ویل گروپ کی پانچ مختلف عمارتوں پر چھاپے مارے گئے، جہاں سے دستاویزات، ڈیجیٹل ریکارڈ اور مالیاتی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔

ای ڈی کا 160 کروڑ روپے کی منتقلی کا دعویٰ

تحقیقاتی حکام کے مطابق اپریل 2023 سے جون 2026 کے درمیان ترنمول کانگریس کے کھاتوں سے تقریباً 160 کروڑ روپے کیئر ویل ایوی ایشن اور اس کی متعلقہ کمپنیوں کو منتقل کیے گئے۔ ای ڈی کا کہنا ہے کہ ان میں سے 82.96 کروڑ روپے مزید ایک نئی قائم کی گئی متعلقہ کمپنی کو منتقل کیے گئے۔ ای ڈی کے مطابق منتقل کی گئی رقم میں سے تقریباً 112 کروڑ روپے خرچ کرکے ایمبریئر لیگیسی 600 طیارہ اور اگسٹا 109 ایس پی ہیلی کاپٹر خریدا گیا۔ تحقیقاتی ایجنسی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اگسٹا ہیلی کاپٹر کی خریداری میں کچھ غیر ملکی فنڈنگ بھی استعمال کی گئی، تاہم زیادہ تر رقم براہِ راست ترنمول کانگریس کے کھاتوں سے آئی۔

پارٹی کو ہی کرائے پر دیے گئے طیارے

ای ڈی کے مطابق خریداری کے بعد یہی طیارہ اور ہیلی کاپٹر ترنمول کانگریس کو کرائے پر فراہم کیے گئے، حالانکہ ان کی خریداری کے لیے استعمال ہونے والی رقم بھی مبینہ طور پر پارٹی فنڈ سے ہی آئی تھی۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ بعد میں طیاروں کے استعمال کے نام پر بھی بڑی رقوم منتقل کی گئیں۔

مشتبہ مالیاتی لین دین کی جانچ جاری

ای ڈی کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مالیاتی بندوبست انتہائی مشتبہ نوعیت کا ہے اور بظاہر اصل مقصد کو چھپانے کے لیے پیچیدہ مالیاتی ڈھانچہ اختیار کیا گیا۔ تحقیقاتی ادارہ مختلف کمپنیوں، بینک کھاتوں اور متعلقہ افراد کے کردار کی جانچ کر رہا ہے تاکہ فنڈز کی مکمل نقل و حرکت اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی حقیقت سامنے لائی جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read