Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam Terror Attack: انہوں نے مذہب دیکھ کر مارا، میرے بیٹے نے بچانے سے پہلے مذہب نہیں دیکھا” — پہلگام کے ہیرو عادل کوملا گھر ،تو والد  ہوئےجذباتی

عادل کے خاندان کو نیا گھر فراہم کیا گیا ہے۔ اس موقع پر عادل کے والد سید حیدر شاہ جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے لوگوں کو مذہب دیکھ کر نشانہ بنایا، لیکن ان کے بیٹے نے بچاتے وقت یہ نہیں دیکھا کہ کون کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔

نئی دہلی:  پہلگام میں 22 اپریل 2025 کو ہونے والا دہشت گرد حملہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں ایک گہرا زخم بن کر موجود ہے۔ اس دردناک واقعے کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، لیکن اس دن کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ اس حملے میں 26 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں ایک نام عادل حسین شاہ کا بھی شامل تھا، جس نے اپنی جان قربان کرکے انسانیت کی مثال قائم کر دی۔عادل حسین شاہ پیشے کے لحاظ سے ایک سادہ پونی والا تھا، جو سیاحوں کو گھڑسواری کروا کر اپنے خاندان کا گزارہ کرتا تھا۔ مگر حملے کے دن اس نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ جب فائرنگ شروع ہوئی اور ہر طرف افراتفری پھیل گئی تو زیادہ تر لوگ اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے، لیکن عادل نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر سیاحوں کو بچانے کی کوشش جاری رکھی۔ اسی دوران اس نے ایک دہشت گرد کی رائفل پکڑنے کی کوشش کی، مگر دہشت گردوں کی گولی کا نشانہ بن کر شہید ہو گیا۔
عادل کے خاندان کو نیا گھر فراہم کیا

ایک سال بعد اب حکومت کی مدد سے عادل کے خاندان کو نیا گھر فراہم کیا گیا ہے۔ اس موقع پر عادل کے والد سید حیدر شاہ جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے لوگوں کو مذہب دیکھ کر نشانہ بنایا، لیکن ان کے بیٹے نے بچاتے وقت یہ نہیں دیکھا کہ کون کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کے مطابق عادل نے صرف انسانیت کو ترجیح دی اور دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔مشکل وقت میں خاندان کو کئی رہنماؤں اور حکومت کی جانب سے مدد ملی۔ خاص طور پر ایکناتھ شندے کی مدد کو خاندان آج بھی یاد کرتا ہے۔ عادل کے والد کے مطابق شندے نے نہ صرف مالی امداد فراہم کی بلکہ گھر بنانے کا وعدہ بھی کیا، جسے پورا کیا گیا۔ ان کی ٹیم مسلسل خاندان کے رابطے میں رہی اور انہیں جذباتی سہارا بھی دیا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت-میانمار سرحد پر 5.2 شدت کا زلزلہ، شمال مشرقی ریاستوں میں محسوس کیے گئے جھٹکے

جموں و کشمیر حکومت نے بھی عادل کے خاندان کی مدد کی

اس کے علاوہ جموں و کشمیر حکومت نے بھی عادل کے خاندان کی مدد کی۔ عادل کی اہلیہ کو مستقل سرکاری ملازمت دی گئی، جب کہ 5 سے 7 لاکھ روپے تک کی مالی امداد بھی فراہم کی گئی۔ عادل کے چھوٹے بھائی کو وقف بورڈ میں ملازمت دی گئی تاکہ خاندان معاشی طور پر مستحکم ہو سکے۔عادل اپنے خاندان کا سہارا تھا اور گھر کی تمام ذمہ داریاں نبھاتا تھا۔ اس کے والد کا کہنا ہے کہ حکومت کی مدد اپنی جگہ، مگر بیٹے کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ گھر میں لگی عادل کی تصاویر انہیں ہر روز اس کی یاد دلاتی ہیں۔غم اور فخر کی ملی جلی کیفیت میں جیتے اس خاندان کے لیے عادل کی قربانی ہمیشہ باعثِ افتخار رہے گی۔ عادل حسین شاہ نے ثابت کر دیا کہ اصل پہچان مذہب نہیں بلکہ انسانیت ہے، اور یہی پیغام اسے ہمیشہ کے لیے ایک ہیرو بنا گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔