نئی دہلی: لوگوں کی غیر معمولی دلچسپی اور بھاری تعداد میں شرکت کو دیکھتے ہوئے ‘انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026’ کے ایکسپو کی مدت میں ایک دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔ منتظمین کے مطابق اب یہ عالمی سطح کا مصنوعی ذہانت پروگرام 21 فروری تک جاری رہے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد جدید اے آئی ٹیکنالوجیز کا مشاہدہ کر سکیں۔ اعلان کے مطابق انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو جمعہ کے روز رات 8 بجے تک کھلا رہے گا، جس سے شرکاء کو 800 سے زائد اداروں اور کمپنیوں کی جانب سے پیش کی گئی جدید مصنوعی ذہانت کی ایجادات دیکھنے کا اضافی موقع ملے گا۔
اہم اعلانات اور پالیسی اپڈیٹس
مرکزی وزیر برائے اطلاعاتی ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے سمٹ کے دوران اعلان کیا کہ بھارت آئندہ چھ ماہ میں اپنی اے آئی انفراسٹرکچر صلاحیت کو نمایاں طور پر بڑھاتے ہوئے جی پی یو کی مجموعی صلاحیت کو دوگنا کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت تحقیق اور اختراع کو تیز کرنے کے لیے ہزاروں اضافی اے آئی تیار جی پی یوز نصب کیے جائیں گے۔ دوسری جانب دفاعی تحقیقاتی ادارے ڈی آر ڈی او کے ڈائریکٹر جنرل نے حساس دفاعی اور فوجی نظاموں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر احتیاط برتنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق ایپلی کیشنز میں غیر ملکی بنیادی اے آئی ماڈلز جیسے چیٹ بوٹس یا بیرونی پلیٹ فارمز پر انحصار مناسب نہیں ہوگا۔
لوگوں کی بڑی تعداد، ٹریفک دباؤ میں اضافہ
سمٹ کے دوسرے دن اے آئی کے ضابطہ سازی اور گورننس سے متعلق سیشنز میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد کے باعث پروگرام کے شیڈول میں تاخیر بھی دیکھنے میں آئی۔ ریلوے اور آئی ٹی وزارت کی جانب سے شرکاء کو پیش آنے والی مشکلات پر معذرت کا اظہار کیا گیا۔ ایکسپو مقام بھارت منڈپم کے اطراف شدید ٹریفک دباؤ بھی ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث دہلی آنے والے کئی زائرین کو سفر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔منتظمین کے مطابق اضافی وقت دینے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تمام دلچسپی رکھنے والے افراد گراؤنڈ فلور پر لگائی گئی اے آئی ٹیکنالوجی نمائشوں کا مکمل تجربہ حاصل کر سکیں اور اب زیادہ آرام دہ انداز میں پروگرام میں شرکت کر سکیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



