Bharat Express DD Free Dish

The controversy over the Ghadar Award has intensified: غدر ایوارڈ پر تنازع شدت اختیار کر گیا، وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی سے اس معاملے پر حکومت کا واضح موقف عوام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ

پریس کلب بشیر باغ، حیدرآباد میں ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کی پریس کانفرنس، فلم رضاکار کو دیا گیا غدر ایوارڈ فی الفور واپس لیا جائے۔ایوارڈ کی انتخابی پالیسی کا ازسر نو جائزہ لیا جائے تاکہ تاریخی دیانتداری اور سماجی اتحاد کو مدنظر رکھا جائے۔

حیدرآباد: پریس کلب بشیر باغ میں “رضاکار: فیکٹس یا فالس ہوڈ؟ (غدر ایوارڈ تنازعہ)” کے عنوان سے ایک اہم پریس کانفرنس منعقد ہوئی، جس کا اہتمام “ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے۔ پی۔ سی۔ آر)، تلنگانہ چیپٹر” نے کیا تھا۔ پریس کانفرنس میں سماجی کارکنوں، مؤرخین، ادیبوں، اور تیلگو فلم انڈسٹری سے وابستہ افراد نے شرکت کی اور تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی سے مطالبہ کیا کہ وہ “غدر تلنگانہ فلم ایوارڈ” کے تحت فلم رضاکار: دی سائلنٹ جینوسائیڈ آف حیدرآباد کو دیے گئے اعزازات پر فوری وضاحت پیش کریں۔ یاد رہے کہ فلم کو “ماحولیاتی، ورثہ، اور تاریخی موضوع پر بہترین فیچر فلم”، “بہترین میک اپ آرٹسٹ”، اور “بہترین موسیقار” کے زمروں میں ایوارڈ دیا گیا ہے، جسے مقررین نے انقلابی اور سیکولر نظریات کے علمبردار گلوکار و رہنما غدر کی وراثت کی توہین قرار دیا۔

فلم رضاکار تاریخی حقائق کو مسخ کرتی ہے

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سماجی کارکن وینو گوپال، فلمساز سید رفیع، صحافی اسکائی بابا، ادیب پاسونوری رویندر، اور دیگر مقررین نے کہا کہ فلم رضاکار تاریخی حقائق کو مسخ کرتی ہے اور تلنگانہ کے مسلح کسان بغاوت کو محض ہندو-مسلم تنازع کے طور پر پیش کرتی ہے، جبکہ اصل میں یہ جدوجہد جاگیرداری، ذات پات، اور استحصالی نظام کیخلاف تھی، جسکی قیادت کمیونسٹ لیڈران نے کی تھی۔

مسلم برادری کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے

مقررین نے کہا کہ فلم میں رضاکاروں کو یکطرفہ طور پر صرف مسلمان دکھا کر مسلم برادری کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور نظام حکومت کی پیچیدہ تاریخ کو مسخ کرکے فرقہ وارانہ ذہنیت کو فروغ دیا گیا ہے۔ غدر، جنہوں نے اپنی زندگی استحصال کے خلاف لڑائی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے وقف کر دی تھی، ان کے نام سے دیے جانے والے ایوارڈ میں ایسی فلم کو شامل کرنا ان کی وراثت کے ساتھ غداری ہے۔

ریاست کی سیکولر فضا کو مجروح کرنے والا عمل

واضح رہے کہ فلم کے پروڈیوسر گودر نارائنا ریڈی کا سیاسی تعلق بی۔ جے۔ پی سے ہے اور یہ فلم ریلیز سے قبل خود کانگریس پارٹی کی شدید تنقید کا نشانہ بنی تھی۔ مگر اب ریاستی حکومت کی طرف سے اسی فلم کو ایوارڈ دینا نہ صرف تضاد کا مظہر ہے بلکہ ریاست کی سیکولر فضا کو مجروح کرنے والا عمل ہے۔

مقررین نے تلنگانہ حکومت سے درج ذیل مطالبات بھی کیے ہیں:

*   فلم رضاکار کو دیا گیا غدر ایوارڈ فی الفور واپس لیا جائے۔

*   ایوارڈ کی انتخابی پالیسی کا ازسر نو جائزہ لیا جائے تاکہ تاریخی دیانتداری اور سماجی اتحاد کو مدنظر رکھا جائے۔

*   وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اس معاملے پر حکومت کا واضح مؤقف عوام کے سامنے پیش کریں۔

پریس کانفرنس میں جن شخصیات نے شرکت کی ان میں این وینوگوپال، آنند سنگھ، ڈاکٹر پاسونوری رویندر، سید رفیع، سارہ میتھیوز، پروفیسر انور خان، ایڈوکیٹ افسر جہاں، اسکائی بابا، پریم راج، ایڈوکیٹ محمد شکیل، ایڈوکیٹ ایم اے شکیل، پروفیسر انعام الرحمان، اودیش رانی بوا، ثناء اللہ خان، اور ماریا عارف الدین جیسی اہم شخصیات شامل تھیں۔ مقررین نے آخر میں کہا کہ اگر حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی تو یہ ریاست کی گنگا-جمنی تہذیب، سیکولرازم، اور سماجی انصاف کے اصولوں پر کاری ضرب ہوگی۔ عوام اور دانشور برادری اس فیصلے کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read