Bharat Express DD Free Dish

MRM 25th Anniversary: مسلم راشٹریہ منچ کی قومی عاملہ کی اہم میٹنگ اختتام پذیر، توسیع، نظریاتی تحریک اور 25 ویں سالگرہ کی تیاری

مسلم راشٹریہ منچ کوئی تحریک نہیں، یہ بھارت کی روح سے جڑا ہوا ایک اقدار پر مبنی سفر ہے جو نہ صرف مسلمانوں کو، بلکہ پورے بھارت کو ایک نئی بیداری، نیا رخ اور نیا حوصلہ دے گا۔

نئی دہلی: مسلم راشٹریہ منچ (ایم آر ایم) کی آل انڈیا قومی عاملہ کی ایک اہم میٹنگ پیر کے روز نئی دہلی میں منعقد ہوئی جس میں منچ کے قومی کنوینر، مختلف سیلوں کے کنوینر اور جوائنٹ کنوینر، مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے نمائندے اور عاملہ کے اراکین بڑی تعداد میں موجود رہے۔  میٹنگ کا آغاز اندریش کمار کے  خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے منچ کے کردار کو صرف ایک تنظیمی یونٹ نہیں، بلکہ ملک کی سماجی و ثقافتی تعمیر نو کے لیے ایک نظریاتی تحریک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ منچ کو صرف تقریبات تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے پالیسی سازی، نظریاتی تخلیق اور تبدیلی کی بیداری تک پھیلایا جانا چاہیے۔ ان کے خیالات نے نہ صرف توانائی دی بلکہ میٹنگ کو فکری سمت بھی دی۔

 ہر سیل کی رپورٹنگ اور وسیع گفتگو

 میٹنگ میں منچ کے مختلف سیلوں اور ریاستوں سے آئے نمائندوں نے اپنے علاقوں میں کیے گئے کاموں کی رپورٹ پیش کی۔ ان رپورٹس پر اندریش کمار نے گہری دلچسپی اور سنجیدہ گفتگو کے ساتھ رہنمائی دی۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ دکھاوے یا عہدوں کی خواہش سے اوپر اٹھ کر خدمت اور قوم کے مفاد کو اپنا مقصد بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ منچ کی روح وہ زمینی کارکن ہیں، جو بے لوث جذبے کے ساتھ سماج کی آخری صف تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے مخلص افراد کو آگے لا کر قیادت سونپنے کا فیصلہ منچ کے طویل المدتی مستقبل کو نئی طاقت دے گا۔

 تنظیم کی توسیع کے لیے حکمت عملی

 میٹنگ میں اتفاق رائے سے طے کیا گیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم راشٹریہ منچ کو ملک کے آخری فرد تک پہنچایا جائے۔ اس کے لیے گاؤں، منڈل، ضلع اور ریاستی سطح پر کارکنوں کو اختیارات، جوابدہی اور فیصلہ کن کردار دیا جائے گا۔ اندریش کمار نے کہا، جو کارکن زمین سے جڑے ہوئے ہیں، سماج کی نبض کو جانتے ہیں اور ایمانداری سے کام کرتے ہیں، اب قیادت انہیں دی جائے گی۔  کارکنوں کی قیادت سازی کو ایک سماجی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جائے گا، جس سے تنظیم کی بنیاد مزید مضبوط ہوگی۔

 فکری سیل کو نئی توانائی اور سوچ

 میٹنگ میں یہ طے کیا گیا کہ منچ کے فکری پہلو کو مزید مؤثر، بصیرت انگیز اور حالات حاضرہ کے مطابق بنایا جائے۔ اندریش کمار نے کہا، کوئی بھی تحریک اُس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتی، جب تک اس کے پاس فکری گہرائی، پالیسی سازی کی بصیرت اور مکالمے کی ثقافت نہ ہو۔ نظریہ ہی تنظیم کی روح ہے۔ اس کے لیے منچ اب علما، اساتذہ، ججوں، ڈاکٹروں، وکلا، منتظمین، سابق فوجی افسران اور سماجی کارکنان پر مشتمل ایک ٹیم تیار کر رہا ہے، جو منچ کو فکری قیادت اور پالیسی معاونت فراہم کرے گی۔ یہ ٹیم نہ صرف قومی مباحثوں میں حصہ لے گی، بلکہ مسلم سماج کی ترقی کے لیے ٹھوس پالیسیاں بھی تجویز کرے گی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ سیل بھی مرکزی ٹیم کے ماتحت ہی کام کرے گا۔

 اگست-ستمبر کے پروگراموں سے فکری سفر کا آغاز

 میٹنگ میں اعلان کیا گیا کہ منچ اگست اور ستمبر کے مہینوں میں دو بڑے قومی پروگرام منعقد کرے گا—ایک بھارت کے تاج جموں و کشمیر میں اور دوسرا ملک کی راجدھانی دہلی میں۔ دہلی کا پروگرام محض عوامی شرکت کا نہیں، بلکہ ایک فکری، ثقافتی اور اتحاد کا عظیم سنگم ہوگا۔ اندریش کمار نے اس موقع پر کہا کہ دہلی اور کشمیر کے پروگرام ہماری مشترکہ وراثت، فکری شعور اور قوم پرستی کو مضبوط بنانے کی تاریخی منزلیں ہوں گے۔ انہیں صرف ہجوم نہیں، بلکہ نظریات کے جھنڈے کے طور پر دیکھیے۔

 عالمی مسائل پر بھارت کا کردار اور منچ کی سوچ

 اس میٹنگ میں دنیا کے موجودہ بحرانوں پر بھی گہری گفتگو ہوئی—خصوصاً اسرائیل-فلسطین تنازعہ، روس-یوکرین جنگ، ایران کی عدم استحکام جیسی صورتحال پر۔ اندریش کمار نے منچ کی طرف سے واضح کیا کہ بھارت کی اصل فطرت عدم تشدد، امن اور مکالمہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا وسودھیو کٹمبکم کوئی نعرہ نہیں، بلکہ بھارت کی ابدی بیداری ہے۔ جو معصوموں کا قتل کرتا ہے، وہ بھارت کا دوست نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مہابھارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب جنگ بھی ہوئی تو وہ انصاف کے لیے تھی اور صرف 18 دنوں میں ختم ہو گئی۔ بھارت کی ثقافت کسی طویل جنگ کی روش کو قبول نہیں کرتی۔

 نوجوانوں کی شمولیت: فکر اور قیادت میں جدت کی ضرورت

 میٹنگ میں ڈاکٹر شاہد اختر اور محمد افضل نے نوجوانوں کی تنظیم میں فیصلہ کن کردار کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کو نوجوانوں کی توانائی، فکری صلاحیت اور تکنیکی مہارت سے جوڑا جائے۔ اس پر اندریش کمار نے صاف کہا نوجوانوں کو صرف کارکن نہیں، بلکہ فکر اور مستقبل کے علمبردار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہیں جوش ہی نہیں، بلکہ فکری صبر بھی چاہیے۔ منچ کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں صحیح رہنمائی دے۔  میٹنگ میں یہ بھی طے کیا گیا کہ نوجوانوں کو ہر سطح پر شامل کیا جائے گا، تاکہ تنظیم میں مسلسل ترقی کا عمل جاری رہے۔

 نمائندوں کی فعال شرکت: مکالمہ اور تنظیم کی توسیع

 اس تاریخی میٹنگ میں منچ کے تمام سینئر اور سرگرم نمائندے شامل ہوئے، جن میں محمد افضل، ڈاکٹر شاہد اختر، ویراگ پاچپور، گریش جوئیال، اسلام عباس، ابوبکر نقوی، ایس کے مدّین، ڈاکٹر شالنی علی، محمد الیاس، عرفان علی پیرزادہ، محمد حبیب، مظاہر خان، ڈاکٹر طاہر حسین، شاہد سعید، محمد فاروق، عمران چوہدری، حافظ صابرین، سراج قریشی، بلال الرحمٰن، ریشما حسین، تسنیم پٹیل، شائستہ شمی، ڈاکٹر ریحان، پروفیسر رضوان خان، بابا زیارت علی ملنگ، سیما جاوید، فیض خان، شمیم بانو، ٹھاکر راجہ رئیس، کلّو انصاری، شفقت قادری، التمش خان بہاری، ظاہر حسین، طاہر مصطفی، میر نظیر، شاکر حسین، انیل گرگ، سشما پاچپور، صفینہ بیگم، ببلی پروین، ڈاکٹر سلیم، طاہر شاہ، قاری جمال ابرار جیسے مخلص چہرے شامل رہے۔ ان میں سے متعدد اراکین نے اپنی تجاویز بھی پیش کیں، جو منچ کی مستقبل کی حکمت عملی میں خاص اہمیت رکھیں گی۔

 25ویں سالگرہ کی تاریخی تیاری: نئی توانائی، نیا رخ

 میٹنگ کے اختتام پر اندریش کمار نے اعلان کیا کہ منچ اب چند مہینوں میں اپنی تاسیس کی 25ویں سالگرہ منانے جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک تقریب نہیں ہوگی، بلکہ منچ کے اب تک کے سفر کا جائزہ، مستقبل کی حکمت عملی اور قومی مکالمے کا نیا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 25 برس کا سفر محض وقت کا حساب نہیں، بلکہ خیالات، جدوجہد، مکالمے اور عزم کا ایک سفر ہے۔ یہ سالگرہ نئے دور کی تمہید لکھے گی۔ اس سے پہلے جو میٹنگیں ہوں گی، وہ رہنمائی کے لحاظ سے نہایت اہم ہوں گی۔

 عہد اور اختتام: خدمت، مکالمہ اور قوم سب سے پہلے

 میٹنگ کا اختتام تمام نمائندوں کے اس عہد سے ہوا کہ منچ ملک کے ہر طبقے سے مکالمہ قائم کرے گا، خدمت کو ترجیح دے گا اور قوم سازی کے کاموں کو رفتار دے گا۔ اندریش کمار نے اختتامی خطاب میں کہا کہ مسلم راشٹریہ منچ کوئی تحریک نہیں، یہ بھارت کی روح سے جڑا ہوا ایک اقدار پر مبنی سفر ہے جو نہ صرف مسلمانوں کو، بلکہ پورے بھارت کو ایک نئی بیداری، نیا رخ اور نیا حوصلہ دے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read