گورکھپور: آزاد سماج پارٹی کے صدر اور رکن پارلیمنٹ چندر شیکھر آزاد نے منگل کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ روی کشن کے ’’گورکھپور اسپین جیسا لگتا ہے‘‘ والے بیان پر طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ شکر گزار ہیں کہ اس شہر میں ’’بغیر ویزا‘‘ گھوما جا سکتا ہے۔ انہوں نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ضلع کے مسائل حل نہیں کر سکے۔
گورکھپور اسپین بن گیا تو ویزا کیوں نہیں لگا؟
چندر شیکھر آزاد ایک طے شدہ پروگرام کے لیے مدھوبن لوک سبھا حلقے جا رہے تھے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے آزاد سماج پارٹی کے سربراہ نے کہا، ’’مجھے بہت فخر محسوس ہو رہا ہے۔ پہلے نیپال ہی ایک واحد ایسا ملک تھا جہاں ہم بغیر ویزا یا پاسپورٹ کے جا سکتے تھے۔ لیکن اب وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں یہاں کے لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ گورکھپور اسپین بن گیا ہے۔ جب میں یہاں آیا تو مجھے لگا کہ اسپین میں داخل ہونے کے لیے مجھے ویزا درکار ہو سکتا ہے، لیکن شکر ہے کہ یہاں ایسی کسی چیز کی ضرورت نہیں پڑی۔‘‘
ایمس کا حوالہ دے کر حکومت کو گھیرا
ایمس گورکھپور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’میری معلومات کے مطابق اسپتال میں 6 گیٹ ہونے کے باوجود صرف ایک ہی گیٹ چل رہا ہے۔ کچھ دن پہلے خبر آئی تھی کہ ایک مریض کی جان اس لیے چلی گئی کیونکہ اسے (واحد فعال گیٹ سے) لانے کے لیے طویل راستہ اختیار کرنا پڑا۔ ایمرجنسی کے معاملات میں ہر منٹ قیمتی ہوتا ہے، لیکن یہاں کے حالات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ جگہ صرف نام سے اسپین بن گئی ہے، کیونکہ حکومت نام بدلنے کی عادی ہے۔‘‘
آزاد سماج پارٹی کے سربراہ نے کہا، ’’یہاں حالات ویسے ہی ہیں جیسے 4 سال پہلے تھے۔ پانی جمع ہونے کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے، جس سے زندگی ٹھپ سی ہو گئی ہے۔ لوگ اب بھی صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ یہ ’بہت تشویش ناک‘ ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ’کافی رقم‘ ہونے کے باوجود یہاں کے حالات نہیں بدل سکے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ایسا لگتا ہے کہ وہ (وزیر اعلیٰ یوگی) گورکھپور کے لوگوں سے ناراض ہیں، اسی لیے انہیں پانی میں ڈبو کر رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’مجھے نہیں معلوم کہ ایئرپورٹ کا نام اسپین کے نام پر رکھا جائے گا یا کسی برطانوی حکمران کے نام پر۔‘‘
بے روزگاری، پیپر لیک اور مافیا راج پر سوال
لوک سبھا رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ انہیں اتر پردیش کے لوگوں کی فکر ہے، جہاں بے روزگاری کے باعث نوجوان ملازمت کی تلاش میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔ پیپر لیک کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو احتجاج کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ تعلیم کی خراب صورتحال اور گرتی ہوئی سطح بھی ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اتر پردیش میں مافیا راج ختم ہو گیا ہے؟ اگر ختم ہو گیا ہے تو کیا وزیر اعلیٰ یا ڈی جی پی انکت کے قتل کی ذمہ داری لیں گے؟‘‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


