Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court: کیا آدھار صرف شناخت تک محدود ہوگا؟ سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو جاری کیا نوٹس

آدھار کارڈ کو شہریت، مستقل رہائش اور رہائشی پتے کے ثبوت کے طور پر استعمال کیے جانے پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔عرضی میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ مرکز، ریاستوں اور الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ آدھار کا استعمال صرف شناخت کی تصدیق تک محدود رکھا جائے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آدھار کارڈ کے استعمال سے متعلق ایک اہم عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت، ملک کی تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا ہے۔ یہ عرضی سپریم کورٹ کے وکیل اشونی کمار اپادھیائے کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں آدھار کارڈ کو شہریت، مستقل رہائش اور رہائشی پتے کے ثبوت کے طور پر استعمال کیے جانے پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔عرضی میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ مرکز، ریاستوں اور الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ آدھار کا استعمال صرف شناخت کی تصدیق تک محدود رکھا جائے۔ عرضی کے مطابق آدھار کو صرف شناختی دستاویز سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ شہریت، مستقل رہائش، پتے یا تاریخِ پیدائش کے ثبوت کے طور پر۔عرضی میں موجودہ نظام پر کئی قانونی سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موجودہ خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے درانداز اور غیر قانونی تارکینِ وطن بھی آسانی سے دیگر سرکاری دستاویزات حاصل کر لیتے ہیں۔ آج کل اسکولوں میں داخلے، جائیداد کی خرید و فروخت، راشن کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور پیدائش کے سرٹیفکیٹ کے لیے آدھار کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔عرضی میں آدھار ایکٹ 2016 کی دفعہ 9 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نئے ووٹر رجسٹریشن کے لیے درخواست فارم میں تاریخِ پیدائش اور رہائش کے ثبوت کے طور پر آدھار کا استعمال آدھار ایکٹ، آر پی اے 1950 کی دفعہ 23(4) اور آئین کے آرٹیکل 14 کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سلوواکیہ کا تاریخی اور نتیجہ خیز دورہ مکمل، جی-7 سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس روانہ ہوئے وزیراعظم مودی

عرضی گزار اشونی کمار اپادھیائے کا کہنا ہے کہ فارم 6 کے تحت موجودہ جانچ کا نظام انتہائی کمزور ہے، جس کے باعث مناسب دستاویزات کے بغیر بھی بیرونی افراد کے نام ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی ڈیٹا بیس کے تحفظ اور نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں اور سائبر فارنزک ماہرین کو شامل کیا جائے تاکہ ووٹر فہرستوں کی شفافیت اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read