Bharat Express DD Free Dish

’’عدالتیں آستھا کی بنیاد پرفیصلہ نہیں کرسکتیں…‘‘ سبری مالا معاملے میں مرکزی حکومت کا حلف نامہ، حیض والی خواتین کے داخلے کی مخالفت

کیرلا کے سبری مالا مندرمیں خواتین کو داخلہ دیئے جانے کے معاملے پرمرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا کہ حکومت کا استدلال ہے کہ یہ مسئلہ صرف صنفی مساوات کا نہیں ہے، بلکہ مذہبی عقیدے اور روایت کا بھی ہے۔ عدالتوں کوضروری مذہبی طریقوں یا دیوتا کی صفات کی دوبارہ تشریح نہیں کرنی چاہئے۔

کیرالہ کے سبری مالا مندرمیں خواتین کے داخلے کے معاملے پرسپریم کورٹ میں آج منگل کے روز(7 اپریل، 2026) سے سماعت شروع ہوگئی ہے۔ سپریم کورٹ کی 9 ججوں کی آئینی بنچ اس کیس کی سماعت کررہی ہے اورمرکزی حکومت نے اس معاملے میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حیض والی خواتین کوداخلے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے اوریہ کہ عدالتیں عقیدے یا آستھا پرفیصلہ نہیں کرسکتیں۔

سبری مالا کیس میں جب سپریم کورٹ نے دائرنظرثانی درخواستوں کی سماعت شروع کی تومرکزی حکومت نے حیض والی خواتین کے مندرمیں داخلے کی مخالفت کی۔ مرکزنے کہا کہ عدالتیں عقیدے (آستھا) یا اعتماد کی بنیاد پرفیصلہ نہیں کرسکتیں۔ بھگوان ایپّا برہمچاری ہیں اورخواتین سے اجتناب کرتے ہیں۔ ایپّا کے عقیدت مند ایک الگ فرقہ ہیں۔ مزید برآں، سبری مالا نظرثانی کی درخواستوں کے جواب میں، مرکزنے تمام خواتین کوداخلے کی اجازت دینے والے 2018 کے فیصلے پرنظرثانی کی حمایت کی۔

حکومت نے دی یہ بڑی دلیل

حکومت نے دلیل دی کہ مسئلہ صرف صنفی مساوات کا نہیں ہے بلکہ مذہبی عقیدے اورروایات کا بھی ہے۔ عدالتوں کو ضروری مذہبی طریقوں یا دیوتا کی صفات کی دوبارہ تشریح نہیں کرنی چاہئے۔ مرکزی حکومت نے یہ بھی کہا کہ عدالتی جائزہ کوآئینی اصولوں کا احترام کرنا چاہئے اورمذہبی اصولوں کومتعلقہ برادریوں پرچھوڑدیا جانا چاہئے۔

9 ججوں کی بینچ کرے گی نظرثانی 

سپریم کورٹ نے آج 9 ججوں کی بینچ کے سامنے سبری مالا نظرثانی درخواستوں سے متعلق ایک ریفرنس کی سماعت شروع کی، جہاں عدالت آرٹیکل 25 اور26 کے تحت عقیدے (آستھا) سے متعلق معاملات میں ‘ضروری مذہبی طریقوں’ کے اصول اورعدالتی نظرثانی کی حدود کا جائزہ لے گی۔

 بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read