نئی دہلی: دہلی میں سردیوں کے دوران فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے دہلی حکومت نے ابھی سے تیاری شروع کردی ہے۔ حکومت نے ایکشن پلان کے تحت تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی، گاڑیوں اور نجی نقل و حمل پر سختی، ایندھن لینے کے لیے آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ (PUC) لازمی کرنے اور سرکاری و نجی دفاتر کے اوقات کار میں تبدیلی جیسے کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔ دہلی کے ماحولیات کے وزیر منجندر سنگھ سرسا نے اعلان کیا کہ دھول پیدا کرنے والے انہدامی کاموں اور کھلے مقامات پر ہونے والے عام تعمیراتی کاموں پر یکم نومبر سے 31 جنوری تک پابندی رہے گی۔ وہیں 10 دسمبر سے 20 جنوری تک ہر طرح کے تعمیراتی اور انہدامی کاموں پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ وزیر ماحولیات کے مطابق یکم نومبر سے پارکنگ فیس دوگنی کردی جائے گی۔ اس کے علاوہ سرکاری اور نجی دفاتر کے لیے الگ الگ اوقات یا شفٹ مقرر کی جائیں گی، جبکہ 50 فیصد ملازمین کے لیے ورک فرام ہوم کا نظام نافذ کیا جائے گا۔
PUC کے بغیر ایندھن نہیں، پرانی گاڑیوں پر بھی شکنجہ
حکومت ’نو فیول، نو PUCC‘ اصول کو سختی سے نافذ کرے گی۔ دہلی کے تمام 500 ایسے پٹرول پمپس پر، جہاں ANPR کیمرے نصب ہیں، پرانی اور مقررہ مدت پوری کرچکی گاڑیوں کے خلاف مہم چلائی جائے گی۔ اکتوبر میں عوامی بیداری مہم چلانے اور نومبر میں PUC مراکز کو اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ ہے۔ تقریباً 2.5 لاکھ گاڑیوں کی تین خودکار جانچ مراکز کے ذریعے فٹنس جانچ کی جائے گی۔ سرسا نے کہا کہ دہلی سے باہر رجسٹرڈ اور BS-6 معیار سے کم درجے کی گاڑیوں کے شہر میں داخلے پر یکم نومبر سے مکمل پابندی ہوگی۔ تاہم الیکٹرک گاڑیوں (EV) سے اضافی پارکنگ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ یہ اعلانات مرکزی وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو کی صدارت میں ہونے والی ’کارروائی پر مبنی منصوبہ‘ میٹنگ کے بعد کیے گئے۔ اجلاس میں دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، تعمیراتِ عامہ کے وزیر پرویش ورما اور ماحولیات کے وزیر منجندر سنگھ سرسا بھی شریک ہوئے۔
’صاف ہوا اور صحت مند ماحول دینا ہماری ذمہ داری‘
منجندر سنگھ سرسا نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دہلی کے باشندوں کو صاف ہوا اور صحت مند ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری صرف کسی ایک موسم تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت آلودگی پر قابو پانے کے لیے سال کے 365 دن، 24 گھنٹے تکنیکی اور سائنسی طریقے سے مسلسل کام کر رہی ہے۔ سرسا کے مطابق اکتوبر میں عوامی بیداری مہم چلائی جائے گی، جبکہ نومبر میں PUC مراکز کو جدید بنایا جائے گا۔ ANPR کیمروں کے مؤثر آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے ان کی دوبارہ جانچ بھی کی جائے گی۔ تین خودکار جانچ مراکز کے ذریعے تقریباً 2.5 لاکھ گاڑیوں کی فٹنس جانچ ہوگی، جبکہ ایک اور فٹنس مرکز بھی جلد شروع کیا جائے گا۔
پبلک ٹرانسپورٹ کو مزید مضبوط کرنے کی تیاری
سرسا کے مطابق دہلی میں اس وقت 5,088 الیکٹرک بسیں چل رہی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ اور آخری میل تک رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے مزید 150 الیکٹرک بسیں شامل کی جائیں گی۔ حکومت آلودگی اور ٹریفک جام والے ہاٹ اسپاٹس کی بھی نشاندہی کر رہی ہے۔ ضلعی حکام کے ساتھ میٹنگز کے ذریعے آلودگی کے سب سے زیادہ متاثرہ مقامات کے تین کلومیٹر کے دائرے میں آنے والی سرگرمیوں، جیسے شمشان گھاٹ، کچرا پھینکنے کی جگہیں اور سیمنٹ کی منتقلی کے مقامات، کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
62 میں سے 42 آلودگی ہاٹ اسپاٹس پر قابو پانے کا دعویٰ
سرسا کے مطابق دہلی میں پہلے نشان زد کیے گئے 62 آلودگی ہاٹ اسپاٹس میں سے 42 پر اب تک قابو پایا جا چکا ہے۔ ہاٹ اسپاٹس کے تین کلومیٹر کے دائرے میں شمشان گھاٹ، ڈمپنگ سائٹس اور سیمنٹ لادنے یا اتارنے کے مقامات جیسی آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 2026 میں 3,065 کلومیٹر سڑکوں کی ازسرنو تعمیر کا ہدف مقرر کیا تھا، جس میں سے 20 ستمبر تک 1,193 کلومیٹر کام مکمل ہوچکا ہے۔ باقی 1,872 کلومیٹر سڑکوں کا کام بھی جلد مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
سڑکوں کی صفائی اور کچرا جلانے پر پابندی
وزیر ماحولیات کے مطابق سڑکوں سے دھول ہٹانے کے لیے ہر 15 دن میں خصوصی صفائی مہم شروع کی گئی ہے۔ کچرا جلانے سے روکنے کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ اس وقت 98 روڈ سویپنگ مشینیں کام کر رہی ہیں، جبکہ باقی مشینوں کے لیے بھی ورک آرڈر جاری کیے جاچکے ہیں۔ ’زیرو برننگ‘ یعنی دھوئیں سے پاک مہم کے تحت سردیوں میں لوگوں کو سردی سے بچنے کے لیے لکڑی، کوئلہ یا کچرا جلانے سے روکنے کے مقصد سے ہیٹر سے لیس عارضی ’ہیٹنگ سینٹرز‘ قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد اور دھوئیں کو کم کرنے کے لیے حکومت لوگوں کو کار پولنگ کی ترغیب بھی دے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



