Bharat Express DD Free Dish

Samajwadi Party MP Dimple Yadav: اپوزیشن کے خلاف ایف آئی آر درج کرا کر حکومت ڈرانا چاہتی ہے- سماج وادی پارٹی کا بی جے پی پر حملہ

اودھیش پرساد نے کہا کہ بھگوان رام کسی سیاسی جماعت کی دین نہیں بلکہ ازل سے موجود ہیں۔ ان کے مطابق رام مندر کی تعمیر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہوئی، اس لیے اس کا سیاسی فائدہ کسی جماعت کو نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایودھیا لوک سبھا نشست پر شکست کے بعد بی جے پی بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اسی وجہ سے ان کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی گئی۔

نئی دہلی : سناتن دھرم کی مبینہ توہین کے معاملے میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی، رکن پارلیمنٹ پپو یادو اور سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد کے خلاف درج ایف آئی آر کے بعد سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈرں نے اس کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت حقیقی عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اپوزیشن کو نشانہ بنا رہی ہے۔سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے کہا کہ اپوزیشن  لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا صرف عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رام جنم بھومی سے متعلق مبینہ زمین گھوٹالوں، چندہ اور چڑھاوے کی رقم میں بے ضابطگیوں کے الزامات پر حکومت جواب دینے کے بجائے مخالفین کے خلاف مقدمات درج کرا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان سنگین الزامات کے باوجود آج تک کسی ذمہ دار شخص کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ایودھیا سے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد نے بھی بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ایودھیا سے منتخب ہونے کے بعد حکمراں جماعت بے چینی کا شکار ہے اور وہ یہ حقیقت قبول نہیں کر پا رہی کہ وہاں کے عوام نے ایک درج فہرست ذات سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو منتخب کیا ہے۔

اودھیش پرساد نے کہا کہ بھگوان رام کسی سیاسی جماعت کی دین نہیں بلکہ ازل سے موجود ہیں۔ ان کے مطابق رام مندر کی تعمیر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہوئی، اس لیے اس کا سیاسی فائدہ کسی جماعت کو نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایودھیا لوک سبھا نشست پر شکست کے بعد بی جے پی بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اسی وجہ سے ان کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک اس وقت بے روزگاری، نوجوانوں کی خودکشی، پیپر لیک اور تعلیمی نظام جیسے اہم مسائل سے دوچار ہے، مگر ان موضوعات پر بحث کرنے کے بجائے سیاسی تنازعات کو ہوا دی جا رہی ہے۔دریں اثنا، سماج وادی پارٹی کے رہنما راجیو رائے نے پپو یادو پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سناتن دھرم کسی کو اظہارِ رائے کی آزادی سے محروم کرنے کی تعلیم نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن تشدد یا حملہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق پپو یادو نے وہی سوالات اٹھائے ہیں جو معاشرے کے ایک طبقے کے ذہن میں موجود ہیں۔

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضل انصاری نے بھی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ پپو یادو کا مقصد صرف یہ جاننا تھا کہ بھگوان کے نام پر آنے والے چڑھاوے کی رقم کس طرح استعمال کی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے جانچ کرائی جائے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر عوام میں بڑے پیمانے پر سوالات موجود ہیں اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔افضل انصاری نے مزید کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف درج ایف آئی آر دراصل اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے پہلے یہ سوالات اٹھائے تھے تو حکومت نے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔ انہوں نے رام مندر میں عقیدت مندوں کے چڑھاوے کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، تاہم واضح کیا کہ ان الزامات کی سرکاری سطح پر ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی ہے۔مانسون اجلاس کے دوران اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے کہا کہ ایف آئی آر سے کسی مسئلے کا حل نہیں نکلے گا اور اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے بی جے پی سے سوال کیا کہ جب ان کی جماعت کے قومی صدر کے استقبالیہ پروگرام میں بھگوان ہنومان کا روپ دھارے فنکاروں سے رقص کرایا گیا تھا، تو اس وقت مذہبی جذبات مجروح ہونے کا معاملہ کیوں نہیں اٹھایا گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read