جموں: جموں و کشمیر اسمبلی کا بجٹ اجلاس جمعہ کے روز ہنگامہ آرائی کے باعث ملتوی کر دیا گیا۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب کے اراکین نے ایران پر اسرائیلی حملوں کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔
ہنگامہ آرائی کے باعث اجلاس ملتوی
اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے اراکین اسمبلی کی جانب سے جاری شور شرابے کے دوران ایوان کی کارروائی آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کر دی۔ اسمبلی نے پانچ ہفتوں کے وقفے کے بعد اپنا اجلاس دوبارہ شروع کیا تھا، لیکن آغاز ہی میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔
حملے کے خلاف مشترکہ نعرے بازی
ایوان میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے اراکین اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور نعرے لگانے لگے۔ اسپیکر کی بار بار اپیل کے باوجود اراکین نے سوالیہ وقفہ میں خلل ڈالا اور کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ حکمران جماعت نیشنل کانفرنس، کانگریس، سی پی آئی-ایم اور آزاد اراکین نے اپوزیشن کی پی ڈی پی کے ساتھ مل کر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔
پانچ ہفتوں کے بعد اجلاس ہوا شروع
بجٹ اجلاس پانچ ہفتوں کے وقفے کے بعد جمعہ کے روز جموں میں دوبارہ شروع ہوا۔ اس کا پہلا مرحلہ 2 فروری سے 20 فروری تک منعقد ہوا تھا۔ پہلے مرحلے میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 6 فروری کو بجٹ پیش کیا تھا، جبکہ ایوان نے مختلف محکموں کے لیے گرانٹس پر تفصیلی بحث کے بعد منظوری دی تھی۔
اجلاس کی آئندہ کارروائی
موجودہ اجلاس 4 اپریل تک جاری رہے گا۔ سرکاری شیڈول کے مطابق 30 مارچ اور یکم اپریل کو نجی اراکین کے بل پیش کیے جائیں گے، جبکہ 31 مارچ اور 2 اپریل کو نجی اراکین کی قراردادوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
اسمبلی کی عددی صورتحال
جموں و کشمیر اسمبلی میں کل 90 اراکین ہیں، جن میں 47 کشمیر وادی اور 43 جموں خطے سے منتخب ہیں۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کو اسمبلی کی موجودہ تعداد کے علاوہ پانچ اراکین نامزد کرنے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ 24 نشستیں پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے علاقوں کے لیے مختص ہیں۔
سیاسی جماعتوں کی بات کی جائے تو حکمران نیشنل کانفرنس کے پاس 46 نشستیں ہیں، بی جے پی کے پاس 29، کانگریس کے پاس 6، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس 4 نشستیں ہیں۔ جبکہ سی پی آئی-ایم، پیپلز کانفرنس، عوامی اتحاد پارٹی اور عام آدمی پارٹی کے پاس ایک ایک نشست ہے، اور ایک رکن آزاد ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

