ایودھیا رام مندرچڑھاوا معاملے کی یوپی حکومت کے ذریعہ تشکیل کی گئی ایس آئی ٹی نے اپنی ابتدائی جانچ رپورٹ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کوپیش کردی ہے۔ ابھی تک کی جانچ میں کئی بڑی باتیں سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، رپورٹ میں مندرکے چڑھاوے میں چوری کا ذکرکیا گیا ہے۔ یہی نہیں رام جنم بھومی ٹرسٹ کے عہدیداران کے کردارپربھی سنگین سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔
ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق، مبینہ طورپررام مندرچڑھاوا چوری معاملے میں ایس آئی ٹی کی رپورٹ میں کچھ خاص نکات کا ذکرکیا گیا، اس کے ساتھ ہی کچھ سوال اٹھائے گئے ہیں۔ ایس آئی ٹی ٹیم نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں چوری کی بات کہی ہے۔ وہیں، عطیات کی گنتی اوراس کی نگرانی کے نظام پربھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ٹرسٹ کے عہدیداران پربھی سنگین سوال
مندرمیں چڑھائے جانے والے چڑھاوے کی گنتی کے لئے ملازمین کومنتخب کرنے کے لئے استعمال کئے جانے والے عمل اورٹرسٹ کے عہدیداروں کے ساتھ ان کے تعلقات سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ایس آئی ٹی نے کچھ ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی ہے۔ مندرکے اندرونی انتظام کے ذمہ دارٹرسٹ کے ذمہ داروں کے کردارپربھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سماجوادی پارٹی کے ایم پی نے بتایا چڑھاوے کی ڈکیٹی
دوسری طرف ایودھیا سے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد نے رام مندرچڑھاوا معاملے سے متعلق ایس آئی ٹی رپورٹ کی ٹیم سے متعلق سوال کھڑے کئے ہیں۔ انہوں نے اسے چوری نہیں بلکہ ڈکیتی قراردیا ہے۔ ایس پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ رام مندرکے چڑھاوے میں، وہ چاہے سونا ہو، ہیرا یا چاندی ہو۔ یا پیسہ ہو۔ یہ بہت سنگین مسئلہ ہے۔ یہ چوری نہیں ہیں بلکہ بہت بڑی ڈکیتی ہے۔
ملک میں کروڑوں آستھا وان (مذہب میں عقیدہ رکھنے والے لوگ) ہیں، جواپنے عقیدے کے مطابق چندہ دیتے ہیں، لیکن انہیں لوٹ لیا گیا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، اس سے پوری قوم پریشان ہے۔ تحقیقات سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونی چاہئے تھیں۔ ایس آئی ٹی بے معنی ہے۔ اس واقعہ کو15 دن گزرچکے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آردرج نہیں کی گئی۔ حکومت اس پرپردہ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے اورمعاملے کوپس پشت ڈال رہی ہے۔ بھگوان سب دیکھتے ہیں، وہ ان کے خلاف ضرورکارروائی کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



