Bharat Express DD Free Dish

Aracharya Avimukteshwaranad Controversy: ’’مجھے پیسوں کا لالچ دیا گیا‘‘، رماشَنکر نے کیا بڑا انکشاف، شنکراچاریہ پر جنسی استحصال کے الزام میں نیا موڑ

پریاگ راج میں درج ایف آئی آر کے بعد اب شاہجہاں پور کے رماشَنکر دکشت نے دعویٰ کیا ہے کہ ان سے جھوٹے الزامات لگانے کے لیے پیسوں کا لالچ دیا گیا تھا۔ شنکراچاریہ نے اس معاملے کو ایک سازش قرار دیا ہے۔

جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند ان دنوں مسلسل خبروں میں بنے ہوئے ہیں۔ پریاگ راج کے جھونسی تھانے میں عدالت کے حکم پر ویدپاٹھی طلبہ کے مبینہ جنسی استحصال کے معاملے میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس ایف آئی آر میں ان کے شاگرد مکندانند برہمچاری اور دو دیگر نامعلوم افراد کے نام بھی شامل ہیں۔ معاملہ سامنے آتے ہی تنازعہ گہرا ہوگیا اور اب اس میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔

شاہجہاں پور سے سامنے آئی نئی کہانی

شاہجہاں پور کے رہائشی رماشَنکر دکشت اپنی اہلیہ اور بیٹیوں کے ساتھ وارانسی کے ودیا مٹھ آشرم پہنچے، جہاں انہوں نے شنکراچاریہ سے ملاقات کر کے دعویٰ کیا کہ ان پر جھوٹے الزامات لگانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ رماشَنکر کے مطابق انہیں فون پر کہا گیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ جنسی استحصال کا الزام عائد کریں اور اس کے بدلے مالی مدد فراہم کی جائے گی۔

حلف نامے پر دستخط کا دباؤ

رماشَنکر نے بتایا کہ ان سے کہا گیا کہ کہیں جانے کی ضرورت نہیں، صرف ایک حلف نامے پر دستخط کر دیں۔ اگر وہ الزامات لگاتے تو انہیں رقم دی جاتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انکار کرنے پر انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ رماشَنکر کا کہنا ہے کہ فون پر بات کرانے والے شخص نے خود کو آشوتوش پانڈے عرف آشوتوش مہاراج بتایا۔

18 فروری کا واقعہ

رماشَنکر کے مطابق 18 فروری کو تین نامعلوم افراد ان کے گھر آئے۔ انہوں نے ان کے والد ڈنڈی سوامی آتمانند کا نام لے کر خیریت دریافت کی اور پھر مالی مدد کی پیشکش کی۔ بعد ازاں واٹس ایپ کال کے ذریعے ان کی بات آشوتوش پانڈے سے کرائی گئی۔ رماشَنکر کا کہنا ہے کہ ان سے وارانسی آشرم میں بیٹیوں کے ساتھ استحصال کا الزام لگانے کو کہا گیا، لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا جس کے بعد انہیں دھمکیاں دی گئیں۔

خوف اور الجھن میں خاندان

رماشَنکر نے بتایا کہ میڈیا میں خبریں دیکھنے کے بعد انہیں خدشہ ہوا کہ کہیں ان کے نام کا غلط استعمال نہ کیا جا رہا ہو۔ اسی وجہ سے وہ اپنے خاندان کے ساتھ وارانسی پہنچے اور شنکراچاریہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی جھوٹے الزام کا حصہ نہیں بننا چاہتے اور اپنی سکیورٹی سے متعلق فکر مند ہیں۔

شنکراچاریہ کا ردعمل

سوامی اویمکتیشورانند نے پورے معاملے کو سازش قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں بدنام کرنے اور قانونی پیچیدگیوں میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب واضح ہو رہا ہے کہ لوگوں کو لالچ دے کر ان کے خلاف کھڑا کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق گئو کشی جیسے معاملات پر کھل کر بولنے کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پہلے سے درج ایف آئی آر

واضح رہے کہ پریاگ راج میں ان کے خلاف پہلے ہی ایف آئی آر درج ہو چکی ہے اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں معاملے کی جانچ کر رہی ہیں۔ شنکراچاریہ نے کہا کہ اگر ان کے خلاف کوئی سی ڈی یا ثبوت موجود ہے تو اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔

سیاسی بیان پر ردعمل

انہوں نے سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سناتن دھرم کو سب سے زیادہ نقصان بی جے پی اور خاص طور پر یوگی آدتیہ ناتھ کے دور حکومت میں ہوا ہے۔

آشوتوش پانڈے کا متنازع پس منظر

آشوتوش پانڈے عرف آشوتوش مہاراج، جنہوں نے شنکراچاریہ پر الزامات لگائے، شاملی کے کاندھلا تھانہ علاقے کے رہنے والے بتائے جاتے ہیں۔ ان کے خلاف غنڈا ایکٹ، گینگسٹر ایکٹ اور آئی ٹی ایکٹ سمیت 21 مقدمات درج ہیں اور وہ کئی معاملات میں جیل بھی جا چکے ہیں۔ بعد میں انہوں نے جگت گرو سوامی رام بھدرآچاریہ سے دِکشا لے کر اپنا نام آشوتوش مہاراج رکھ لیا۔

پرانا تنازع

18 جنوری کو مونی اماوسیہ کے موقع پر اسنان کے معاملے پر بھی تنازع سامنے آیا تھا۔ اسی دن آشوتوش پانڈے نے شنکراچاریہ کے شاگردوں پر مارپیٹ کا الزام لگایا تھا، تاہم اس معاملے میں ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ بعد میں عدالت میں عرضی دائر کی گئی، جس کی بنیاد پر جھونسی تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read