میرٹھ کے سوربھ قتل کیس میں ضلع عدالت میں ٹرائل شروع ہو چکا ہے۔ ملزمان مسکان اور اس کے عاشق ساحل پر ضلع جج کی عدالت میں قتل اور ثبوت مٹانے کے الزامات طے کر دیے گئے ہیں۔ پولیس نے مسکان اور ساحل کو سخت ترین سزا دلوانے کے لیے 1000 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں جمع کرائی ہے۔
سخت سکیورٹی بندوبست میں لائے گئے ملزمان
سوربھ راجپوت قتل کیس میں ملزمہ مسکان اور اس کے عاشق ساحل پر ضلع جج کی عدالت میں قتل اور شواہد مٹانے کے الزامات طے ہوئے ہیں۔ گزشتہ پیر کو اس کیس کی سماعت ضلع جج کی عدالت میں ہوئی، جس میں ملزمہ مسکان اور ساحل کو سخت سکیورٹی میں جیل سے عدالت لایا گیا تاکہ ان پر کوئی حملہ نہ کر سکے۔
میرٹھ پولیس نے 1000 صفحات پر مشتمل تفصیلی چارج شیٹ داخل کی
پیر کے روز میرٹھ کے ضلع جج سنجیو پانڈے کی عدالت نے سوربھ قتل کیس کی حتمی چارج شیٹ طلب کی تھی، جس پر میرٹھ پولیس نے 1000 صفحات پر مشتمل تفصیلی چارج شیٹ داخل کی، جس میں دو درجن سے زائد گواہوں کو شامل کیا گیا ہے۔ تحقیقات کے دوران حاصل شدہ شواہد کو ’ای ساکش ایپ‘ پر حقیقی وقت میں اپلوڈ کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔
کیس کی اگلی سماعت 23 جون کو ہوگی
اطلاعات کے مطابق عدالت میں قتل، ثبوت مٹانے اور دیگر دفعات کے تحت مسکان اور ساحل کے خلاف باقاعدہ الزامات طے کر دیے گئے ہیں، جسے کیس میں ایک نیا موڑ تصور کیا جا رہا ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 23 جون کو ہوگی۔ قابل ذکر ہے کہ مسکان نے اپنے عاشق ساحل کے ساتھ مل کر اپنے شوہر سوربھ کا قتل کیا تھا۔
میرٹھ جیل میں قید ہے مسکان
قتل کے بعد لاش کے ٹکڑے کیے گئے اور انہیں نیلے رنگ کے ڈرم میں ڈال کر سیمنٹ سے بند کر دیا گیا تاکہ ثبوت مٹایا جا سکے۔ اس ہولناک واردات کے بعد مسکان اور ساحل نے ہماچل پردیش کی سیر کا منصوبہ بنایا۔ تقریباً 15 دن بعد دونوں واپس گھر آئے، جس کے بعد یہ قتل کیس منظر عام پر آیا۔ فی الحال مسکان حاملہ ہے اور میرٹھ جیل میں قید ہے، جبکہ ساحل بھی میرٹھ جیل میں بند ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
