دہلی اسمبلی الیکشن 2025 کے نتائج سے پہلے سنجے سنگھ نے بی جے پی پر بڑا الزام لگایا ہے۔
Arvind Kejriwal Health: تہاڑ جیل انتظامیہ کی جانب سے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی میڈیکل رپورٹ پر عام آدمی پارٹی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ عآپ کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ تہاڑ جیل نے اعتراف کیا کہ شوگر لیول کئی بار نیچے چلا گیا ہے۔ شوگر لیول کم ہونے کی وجہ سے اروند کیجریوال نیند کے دوران کوما میں جا سکتے ہیں۔ شوگر لیول کم ہونے پر برین اسٹروک کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ تہاڑ جیل کی رپورٹ کے مطابق وزن بھی کم ہوگیا ہے۔
اس سے پہلے سی ایم کیجریوال کے وزن کو لے کر اے اے پی لیڈروں اور دہلی حکومت کے وزراء کے دعووں پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ AAP حکومت کے وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور دیگر مسلسل دعویٰ کر رہے ہیں کہ اروند کیجریوال کا وزن 8.5 کلو کم ہو گیا ہے۔ اس کے بعد تہاڑ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے اروند کیجریوال کے وزن کو لے کر جاری دعوے پر دہلی حکومت کے محکمہ داخلہ کو خط لکھا ہے۔
جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق یکم اپریل 2024 کو جب اروند کیجریوال پہلی بار تہاڑ جیل آئے تو ان کا وزن 65 کلو گرام تھا۔ اروند کیجریوال جب 10 مئی کو تہاڑ سے نکلے تو ان کا وزن 64 کلوگرام تھا۔ جب انہوں نے 2 جون کو جیل میں سرینڈر کیا تو ان کا وزن 63.5 کلوگرام تھا۔ اس وقت ان کا وزن 61.5 (14 جولائی) کلوگرام ہے۔
جیل سپرنٹنڈنٹ نے یہ بھی بتایا ہے کہ کم خوراک کھانے یا کیلوریز کم کھانے سے بھی وزن میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اروند کیجریوال کا روزانہ صحت کے سینئر حکام کی نگرانی میں معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت کے حکم کے مطابق ان کی اہلیہ سنیتا کیجریوال بھی میڈیکل بورڈ سے مشاورت کے دوران موجود رہتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں- AAP-JMM News: سنیتا کیجریوال اور ہیمنت سورین کے درمیان ملاقات میں کن امور پر ہوئی بات چیت؟،سنجے سنگھ نے بتائی تفصیلات
خط میں لکھا گیا ہے کہ دہلی حکومت کے کچھ وزراء، ایک موجودہ ایم پی اور عام آدمی پارٹی کے دیگر ایم ایل ایز نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے بے بنیاد الزامات لگائے ہیں۔ یہ جھوٹی معلومات پھیلانے اور جیل انتظامیہ کو خوفزدہ کرنے کی نیت سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔
-بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
