بنگلورو: ریاست کرناٹک کے اتر کنڑ ضلع میں ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا، جہاں ندی میں سیپیاں تلاش کرنے گئے ایک ہی گاؤں کے آٹھ افراد تیز بہاؤ کی زد میں آکر ڈوب گئے۔ مرنے والوں میں سات خواتین شامل ہیں، جبکہ دو افراد اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ حادثے کے بعد پورے علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں مسلسل تلاش اور بچاؤ کا کام انجام دے رہی ہیں۔ یہ حادثہ اتر کنڑ ضلع کے تٹے ہکّالو ندی میں پیش آیا، جہاں گاؤں کے کئی لوگ روزگار کے مقصد سے مسلز یعنی سیپیاں جمع کرنے کے لیے ندی میں اترے تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ لوگ آہستہ آہستہ دریا کے گہرے حصے کی طرف بڑھتے گئے، لیکن وہ پانی کی گہرائی اور بہاؤ کی شدت کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکے۔ اسی دوران علاقے میں بارش ہونے کے باعث ندی میں پانی کی سطح اچانک بلند ہوگئی اور بہاؤ خطرناک حد تک تیز ہو گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ابتدا میں ایک یا دو افراد پانی کے تیز بہاؤ میں بہنے لگے۔ انہیں بچانے کے لیے دوسرے لوگ بھی ندی میں کود پڑے، مگر حالات اتنے خراب تھے کہ مدد کے لیے آنے والے افراد خود بھی پانی میں پھنس گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کئی لوگ ایک ساتھ ڈوبنے لگے اور حادثہ ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہو گیا۔ مقامی لوگوں نے فوری طور پر پولیس اور ریسکیو ٹیم کو اطلاع دی، جس کے بعد سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ پولیس نے اب تک آٹھ لاشیں برآمد کر لی ہیں۔ مرنے والوں کی شناخت اُمیش منجوناتھ نائک (40)، لکشمی مہادیو نائک (42)، لکشمی جٹاپا نائک (30)، لکشمی اپّنّا نائک (60)، لکشمی شیورام نائک (49)، جیوتی مستمّا نائک (34)، مالتی نائک (38) اور مستمّا نائک (60) کے طور پر کی گئی ہے۔ ان میں صرف ایک مرد جبکہ باقی سات خواتین شامل ہیں۔ تمام افراد شیرالی گاؤں کے رہنے والے تھے اور ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے۔
Bengaluru, Karnataka: On the Alvekodi river incident, Chief Minister Siddaramaiah says, “Eight people have died. One person is injured. Two more bodies have not been found yet. Therefore, I have instructed that compensation of five lakh rupees each be given to the families of… pic.twitter.com/ofDuUKsc2A
— IANS (@ians_india) May 24, 2026
پولیس حکام کے مطابق دو افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مقامی غوطہ خور اور دیہاتی بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ندی میں پانی کا بہاؤ تیز ہونے کی وجہ سے تلاش کا کام کافی مشکل ہو گیا ہے۔ دوسری جانب ناگرتنا اور مہادیوی نامی دو خواتین کو بروقت بچا لیا گیا، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق دونوں کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والے کئی افراد اس کام کا تجربہ رکھتے تھے اور پہلے بھی ندی میں جا کر سیپیاں جمع کر چکے تھے۔ تاہم اس بار بارش کی وجہ سے پانی کی سطح غیر متوقع طور پر بڑھ گئی، جس کا شاید انہیں اندازہ نہیں ہو سکا۔ حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مرنے والوں میں کتنے افراد تیرنا جانتے تھے اور حادثے کے وقت حفاظتی اقدامات کیوں اختیار نہیں کیے گئے۔
Deeply pained to hear about a mishap in Karwar district, Karnataka. My condolences to those who have lost their loved ones. May the injured recover at the earliest.
An ex-gratia of Rs. 2 lakh from PMNRF would be given to the next of kin of each deceased. The injured would be…
— PMO India (@PMOIndia) May 24, 2026
ریاست کے وزیر اعلیٰ سدارامیانے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے نہایت افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تعزیتی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ہر متوفی کے اہل خانہ کو پانچ، پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان بھی کیا۔ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور اپوزیشن لیڈر آر اشوکا نے بھی حادثے پر افسوس ظاہر کیا اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ ادھر وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس سانحے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان تمام خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں جنہوں نے اپنے عزیزوں کو کھو دیا ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم قومی ریلیف فنڈ کے تحت ہر متوفی کے اہل خانہ کو دو لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو پچاس ہزار روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ حادثے کے بعد پورے علاقے میں خوف اور غم کا ماحول ہے، جبکہ مقامی لوگ مسلسل دریا کے کنارے جمع ہو کر لاپتہ افراد کی تلاش کی خبریں حاصل کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

