نئی دہلی: ملک بھر میں امتحانی پرچہ لیک معاملے، تعلیمی نظام میں بدانتظامی اور طلبہ کے مسلسل احتجاج کے درمیان مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جسے وزیر اعظم نریندر مودی نے منظور کر لیا ہے۔ دھرمیندرپردھان نے پرچہ لیک معاملے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ہفتہ کی دوپہر اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو پیش کیا تھا۔ 25 جولائی 2026 کو یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی، جب گزشتہ ایک ماہ سے دہلی، پٹنہ اورملک کے دیگرشہروں میں طلبہ تعلیمی نظام میں اصلاحات اور وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے کو لے کر مسلسل احتجاج کر رہے تھے۔
اس دوران دہلی کے جنترمنترپرماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے بھی 26 دن تک بھوک ہڑتال کی۔ بعد ازاں حکومت کی یقین دہانی اور متعدد دور کی بات چیت کے بعد انہوں نے اپنا انشن ختم کیا تھا۔ ادھر دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے کارکنوں اور حامیوں میں خوشی کی لہردوڑگئی۔ جنترمنترسے نوجوانوں کے جشن منانے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جن میں وہ ڈھول بجا کر رقص کرتے اور ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے نظرآرہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے صرف وزیر تعلیم کے استعفے پر ہی رضامندی ظاہر نہیں کی بلکہ سی جے پی کے دیگر مطالبات کو بھی قبول کر لیا ہے۔ ان مطالبات میں متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے کی بات بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ 20 جولائی کو دہلی میں پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کارروائی کے بعد دھرمیندرپردھان کے استعفے کا مطالبہ مزید شدت اختیار کرگیا تھا۔ اس کے بعد حکومت مسلسل دباؤ میں نظر آ رہی تھی۔ بعد میں وزیر اعظم نریندر مودی نے خود اس معاملے کی نگرانی سنبھالی اورطلبہ کے مطالبات کوجائزقراردیتے ہوئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اس سے قبل 24 جولائی کو مرکزی حکومت نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) میں بڑے انتظامی ردوبدل کا بھی اعلان کیا تھا۔ اب وزیرتعلیم کے استعفے کی منظوری کے بعد سی جے پی نے حکومت کے ساتھ تین مرحلوں پر مشتمل مذاکرات کامیاب ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے ملک گیر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
