Bharat Express DD Free Dish

Big relief for Khan Sir: کوچنگ تنازعہ کیس میں خان سر کو پٹنہ کورٹ سے بڑی راحت، دونوں باڈی گارڈز کو بھی ملی ضمانت

یہ معاملہ جون 2026 کے اوائل میں اس وقت سامنے آیا تھا، جب رات کے وقت خان سر کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے باہر حملے کی اطلاع ملی تھی۔ خان سر کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ چند افراد نے ان کے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا، جس کے بعد ان کی ٹیم نے پولیس میں ایف آئی آر درج کرائی تھی۔

نئی دہلی : بہار کے فیصل خان عرف خان سر کو کوچنگ تنازعہ اور فائرنگ سے متعلق مقدمے میں بڑی قانونی راحت ملی ہے۔ پیر کو پٹنہ سول کورٹ میں ان کی پیشگی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس کے بعد عدالت نے خان سر کو ضمانت دے دی۔ اسی مقدمے میں گرفتار ان کے دونوں باڈی گارڈز کو بھی عدالت سے ضمانت مل گئی، جو اس وقت بیؤر جیل میں بند تھے۔یہ سماعت پہلے 10 جولائی کو ہونی تھی، متعلقہ جج کی عدم موجودگی کے باعث اسے 13 جولائی تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔ پیر کو ضلع جج روپیش دیو کی عدالت نے کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے خان سر اور فائرنگ کے الزام میں گرفتار دونوں سکیورٹی اہلکاروں کی ضمانت منظور کر لی۔ اس فیصلے کے بعد خان سر کو جاری قانونی کارروائی میں اہم ریلیف حاصل ہوا ہے۔واضح رہے کہ خان سر کی ضمانت کی درخواست پر عدالت میں پہلے ہی دلائل مکمل ہو چکے تھے اور فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا۔ جمعہ کو فیصلے کی امید تھی، لیکن ضلع جج کی عدم دستیابی کے باعث فیصلہ جاری نہیں ہو سکا تھا۔ اب عدالت کے تازہ حکم کے بعد ان کے خلاف مقدمے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

یہ معاملہ جون 2026 کے اوائل میں اس وقت سامنے آیا تھا، جب رات کے وقت خان سر کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے باہر حملے کی اطلاع ملی تھی۔ خان سر کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ چند افراد نے ان کے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا، جس کے بعد ان کی ٹیم نے پولیس میں ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ بعد ازاں یہ تنازع روشن آنند نامی شخص سے جڑ گیا۔ پولیس تحقیقات کے دوران خان سر کے دونوں باڈی گارڈز کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران دونوں گارڈز نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ انہوں نے خان سر کی ہدایت پر فائرنگ کی تھی۔

اس بیان کے بعد پولیس نے کیس کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا۔تحقیقات کے دوران واقعے سے متعلق کئی ویڈیوز بھی سامنے آئے، جنہیں دیگر شواہد کے ساتھ جانچ کا حصہ بنایا گیا۔ انہی شواہد کی بنیاد پر دونوں باڈی گارڈز کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا تھا، جبکہ روشن آنند کو بھی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب روشن آنند کے جیل میں رہنے کے دوران ان کے بھائی کی نیپال میں مشتبہ حالات میں موت ہو گئی، جس کے بعد یہ پورا کیس ملک بھر میں موضوعِ بحث بن گیا۔اب عدالت کی جانب سے خان سر اور ان کے دونوں باڈی گارڈز کو ضمانت ملنے کے بعد کیس کا رخ بدلتا دکھائی دے رہا ہے، تاہم مقدمے کی سماعت اور دیگر قانونی کارروائیاں بدستور جاری رہیں گی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read