مرادآباد: سماجوادی پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ ایس ٹی حسن نے رام مندر کے چندے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھگوان شری رام کے مندر میں چڑھاوے کی رقم میں خردبرد ہوئی ہے تو اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
اصل ذمہ داروں پر بھی ہو کارروائی
ایس ٹی حسن نے کہا کہ جن لوگوں نے بھگوان رام کے نام پر عوام کی عقیدت اور اعتماد کے ساتھ غداری کی ہے، انہیں کسی بھی صورت بخشا نہیں جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صرف نچلے درجے کے ملازمین کے خلاف کارروائی کافی نہیں، بلکہ اگر اس معاملے میں کسی بااثر شخصیت یا اعلیٰ عہدے دار کا کردار سامنے آتا ہے تو اسے بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
حقیقی عقیدت ہوتی تو کوئی رعایت نہ دی جاتی
انہوں نے کہا کہ اگر واقعی بھگوان رام کے تئیں سچی عقیدت ہوتی تو مندر سے متعلق مالی بے ضابطگی کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جاتی۔ ان کے مطابق، یہ معاملہ نہ صرف مالی بدعنوانی بلکہ عوامی اعتماد سے بھی جڑا ہوا ہے، اس لیے اس کی غیرجانبدارانہ اور مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔
ایس ٹی حسن نے مزید کہا کہ اس پورے معاملے نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مذہبی سیاست اور اس کے دعوؤں پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور جو بھی قصوروار ثابت ہو، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
مندر اور مسجد دونوں ہمارے لیے قابل احترام
لکھنؤ میں سماجوادی پارٹی کے ترجمان فخرالحسن چاند نے کہا کہ اس معاملے کو سب سے پہلے پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اٹھایا تھا۔ اگر یہ معاملہ عوام کے سامنے نہ آتا تو بے ضابطگیوں کا انکشاف بھی نہ ہو پاتا۔ انہوں نے کہا کہ اب مسلسل نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں اور اپوزیشن شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔
فخرالحسن چاند نے مزید کہا کہ سماجوادی پارٹی کے لیے مندر اور مسجد دونوں عقیدت کے مراکز ہیں۔ کسی بھی مذہبی مقام پر عقیدت مندوں کے جذبات اور اعتماد کے ساتھ کھلواڑ ناقابل قبول ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف غیرجانبدارانہ اور سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
