نئی دہلی: ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم کو ایک بار پھر 21 دن کی پیرول مل گئی ہے۔ عصمت دری اور قتل جیسے سنگین جرائم میں 20 سال اور عمر قید کی سزا کاٹ رہے رام رحیم اس بار 17ویں مرتبہ جیل سے باہر آئیں گے۔ روہتک کی سناریا جیل سے رہائی کے بعد وہ سرسا واقع ڈیرہ سچا سودا آشرم جائیں گے۔ 2017 میں خصوصی سی بی آئی عدالت کی جانب سے دو سادھویوں کے جنسی استحصال کے معاملے میں سزا سنائے جانے کے بعد سے رام رحیم کو متعدد مرتبہ پیرول اور فرلو مل چکی ہے۔ اس بار بھی 21 دن کی عارضی رہائی کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سے پہلے مئی میں انہیں 30 دن کی پیرول ملی تھی۔
17ویں بار جیل سے باہر آئیں گے رام رحیم
رام رحیم کو دو سادھویوں کے جنسی استحصال کے معاملے میں 10،10 سال کی الگ الگ سزائیں سنائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ صحافی رام چندر چھترپتی اور ڈیرہ منیجر رنجیت سنگھ کے قتل کے معاملات میں بھی انہیں سزا سنائی جا چکی ہے۔ ان سنگین مقدمات کے باوجود رام رحیم کو بار بار عارضی رہائی ملنے پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ عام طور پر پیرول کو خاص حالات یا مخصوص ضرورت سے جوڑا جاتا ہے، لیکن رام رحیم کی بار بار رہائی نے اس نظام پر بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
یوپی سے ہریانہ تک آشرم میں قیام
ابتدائی دور میں پیرول کے دوران رام رحیم کو اتر پردیش کے باغپت واقع برناوا آشرم میں رکھا جاتا تھا۔ تاہم اب انہیں سرسا کے ڈیرہ سچا سودا آشرم جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ تازہ پیرول کے دوران بھی ان کے سرسا آشرم پہنچنے کی توقع ہے۔ رام رحیم کے پیروکاروں کی بڑی تعداد کے پیش نظر ان کی ہر عارضی رہائی سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی بحث کا موضوع بن جاتی ہے۔ پیرول کے دوران ان کی سرگرمیاں اور آن لائن ست سنگ بھی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔
پیرول اور سیاست پر بھی اٹھتے رہے ہیں سوال
ہریانہ اور پنجاب میں ڈیرہ سچا سودا کے پیروکاروں کی بڑی تعداد کو سیاسی طور پر بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے جب بھی رام رحیم کو پیرول یا فرلو ملتی ہے تو سیاسی حلقوں میں اس کے ممکنہ اثرات پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔ ناقدین کا سوال ہے کہ کیا بار بار ملنے والی عارضی رہائی پیرول کے اصولوں کے مطابق ہے یا اس کے پیچھے کوئی سیاسی حساب کتاب بھی کارفرما ہے؟ 2017 میں رام رحیم کی گرفتاری کے بعد ہریانہ اور پنجاب کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تشدد ہوا تھا۔ ایسے میں ان کی بار بار عارضی رہائی قانون اور جیل نظام سے متعلق کئی سوالات کو دوبارہ سامنے لے آتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



