Bharat Express DD Free Dish

Ram Prasad Bismil: رام پرساد بسمل: ’سرفروشی کی تمنا‘ کے لیے ہنستے ہنستے پھانسی کے پھندے کو چومنے والے عظیم مجاہد آزادی

عظیم انقلابی، شاعر اور ادیب پنڈت رام پرساد بسمل نے ہندوستان کی آزادی کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ انہوں نے نہ صرف انگریز حکومت کو للکارا بلکہ اپنی تحریروں اور شاعری کے ذریعے نوجوانوں کے دلوں میں آزادی کا جذبہ بھی بیدار کیا۔ رام پرساد بسمل نے محض 30 برس کی عمر میں ہنستے ہنستے پھانسی کے پھندے کو چوم کر وطن پر قربان ہونے کی لازوال مثال قائم کی۔

رام پرساد بسمل 11 جون 1897 کو اتر پردیش کے شاہجہاں پور میں ایک برہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پنڈت مرلی دھر میونسپلٹی میں ملازم تھے جبکہ والدہ کا نام مولمتی (مولارانی) تھا۔ محدود معاشی وسائل کے درمیان ان کا بچپن گزرا۔ ابتدائی عمر میں ان کی دلچسپی تعلیم کے مقابلے کھیل کود میں زیادہ تھی۔ نوجوانی میں بعض بری عادات بھی ان میں پیدا ہو گئیں، لیکن وقت کے ساتھ ان کی زندگی میں ایسی تبدیلی آئی جس نے انہیں تحریکِ آزادی کے عظیم ہیروز میں شامل کر دیا۔

رام پرساد بسمل کا اردو سے  لگاؤ

سات برس کی عمر میں ان کے والد نے گھر پر ہی انہیں ہندی کی تعلیم دینا شروع کر دی۔ اس دور میں اردو کا بھی گہرا اثر تھا، اس لیے انہیں اردو سیکھنے کے لیے ایک مولوی صاحب کے پاس بھیجا گیا۔ ان کے والد تعلیم کے معاملے میں انتہائی سنجیدہ تھے اور غفلت پر سختی سے پیش آتے تھے۔ان کی زندگی کا اہم موڑ اس وقت آیا جب وہ نویں جماعت میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور آریہ سماج کے رابطے میں آئے۔ شاہجہاں پور کے آریہ سماج مندر میں ان کی ملاقات سوامی سوم دیو سے ہوئی، جنہوں نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔ اسی دوران انہوں نے حب الوطنی اور سماجی اصلاحات کے نظریات کو اپنایا۔

تعلیم ترک کرکے تحریکِ آزادی میں فعال کردار

تقریباً 18 برس کی عمر میں جب انقلابی رہنما بھائی پرمانند کو غدر سازش کیس میں برطانوی حکومت نے سزائے موت سنائی، جسے بعد میں عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا، تو اس واقعے نے بسمل کو اندر تک جھنجھوڑ دیا۔ انہوں نے ’میرا جنم‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی، جس میں ہندوستان کو انگریزی غلامی سے آزاد کرانے کا عزم نمایاں تھا۔ اس کے بعد انہوں نے تعلیم ترک کرکے تحریکِ آزادی میں فعال کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ کانگریس کے لکھنؤ اجلاس میں انہوں نے نرم دل قیادت کی مخالفت کے باوجود لوک مانیہ بال گنگا دھر تلک کی شاندار جلوس کی قیادت کی۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ’’امریکہ کی آزادی کی تاریخ‘‘ نامی کتاب شائع کی، جس پر فوراً پابندی لگا دی گئی۔اسی دور میں ان کی مشہور نظم ’مین پوری کی پرتیجنا‘ عوام میں بے حد مقبول ہوئی۔ ایک مخبر کی غداری کے باعث کئی انقلابی شہید ہو گئے اور بسمل کو تقریباً دو برس تک روپوش رہنا پڑا، تاہم انگریز انہیں گرفتار نہ کر سکے۔ اس دوران انہوں نے کئی اہم کتابیں اور ادبی تخلیقات بھی لکھیں۔

تحریکِ آزادی میں کاکوری واقعہ

ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں کاکوری واقعہ ایک اہم باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ انقلابی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل حاصل کرنے اور برطانوی اقتدار کو براہِ راست چیلنج دینے کے مقصد سے 9 اگست 1925 کو رام پرساد بسمل نے چندر شیکھر آزاد، اشفاق اللہ خان، راجندر ناتھ لاہڑی، شچیندر ناتھ بخشی اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ لکھنؤ کے قریب کاکوری ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک چلتی ٹرین روک کر سرکاری خزانہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس کارروائی نے برطانوی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔کاکوری سانحے کے بعد انگریز حکومت نے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں۔ 26 ستمبر 1925 کو بسمل سمیت تقریباً 40 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ طویل عدالتی کارروائی کے بعد رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خان، راجندر ناتھ لاہڑی اور روشن سنگھ کو سزائے موت سنائی گئی۔19 دسمبر 1927 کو گورکھپور جیل میں صرف 30 برس کی عمر میں رام پرساد بسمل کو پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی کے تختے کی جانب بڑھتے وقت بھی ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور وہ خدا کا ذکر کر رہے تھے۔

’’مالک تیری رضا رہے اور تو ہی تو رہے، باقی نہ میں رہوں نہ میری آرزو رہے۔ جب تک کہ تن میں جان، رگوں میں لہو رہے، تیرا ہی ذکر یا تیری ہی جستجو رہے۔‘‘

ان کی آخری خواہش بھی یہی تھی کہ برطانوی سامراج کا خاتمہ ہو اور ہندوستان آزاد ہو جائے۔ وہ ہنستے ہنستے پھانسی کے پھندے پر جھول گئے، لیکن ملک کی عوام کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ رام پرساد بسمل کی شاعری اور تحریروں نے تحریکِ آزادی کو نئی توانائی اور نئی سمت عطا کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read