’رکشا شکتی‘ کے 11 سال مکمل
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے ’رکشا شکتی‘ کے 11 سال مکمل ہونے کا جشن منایا۔ اس کے ساتھ انہوں نے جدیدیت اور خود انحصاری پر دوہری توجہ کو بھی اجاگر کیا ہے۔
پی ایم مودی نےایکس پوسٹ میں لکھا، ’’گزشتہ 11 سالوں میں، ہمارے دفاعی شعبے میں اہم تبدیلیاں آئی ہیں، جس میں جدیدیت اور دفاعی پیداوار کے معاملے میں خود انحصاری پر واضح توجہ دی گئی ہے۔ یہ دیکھنا خوشی کی بات ہے کہ ہندوستان کے لوگ اپنے ملک کو مضبوط بنانے کے عزم کے ساتھ کیسے متحد ہوئے ہیں!‘‘
وزارت دفاع اور اعلیٰ عہدیداروں نے وزیر اعظم کے جذبات کو دہراتے ہوئے، ملک کی ترقی اور اختراع کی طرف ملک کے اقدام کی تعریف کی ہے۔ وزارت دفاع نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر اس کامیابی کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔
وزارت نے لکھا، ’’گزشتہ 11 سالوں میں، وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں، ہندوستان کے دفاعی شعبے نے خود انحصاری کی طرف تاریخی پیشرفت کی ہے۔ آتم نربھر بھارت اور میک ان ڈانڈیا جیسی مہموں کے تحت، ہندوستان اب عالمی سطح پر ایک دفاعی برآمد کنندہ کے طور پر ابھرا ہے۔ برہموس میزائل جیسی دیسی ٹیکنالوجیز اور جدید ترین دفاعی آبدوزوں کی برآمدات نے آج ہندوستان کی دفاعی مصنوعات کو مزید مضبوط کیا ہے۔ آج بھارت 100 سے زیادہ ممالک کو دفاعی مصنوعات برآمد کر رہا ہے۔ اس موقع پر ہم ایک مضبوط، محفوظ اور خود انحصار ہندوستان کی طرف اس تبدیلی کو سلام کرتے ہیں۔
‘MyGovIndia’ نے ‘X’ پوسٹ میں لکھا، ’’صرف 11 سالوں میں، وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں، ہندوستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں انقلاب برپا کیا ہے، اسٹریٹجک عالمی شراکت داری کو مضبوط کیا ہے اور خلائی تحقیق میں تاریخی سنگ میل حاصل کیے ہیں۔ آتم نربھر بھارت کے لیے ان کے (پی ایم مودی) کے عزم سے متاثر ہو کر، قوم نے خود انحصار اختراع کو اپناتے ہوئے تجارت اور ٹیکنالوجی میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔ وزیر اعظم مودی کے جرات مندانہ وژن اور مضبوط ہندوستان کے لیے اٹل عزم سے متاثر ہو کر ایک پراعتماد، فیصلہ کن اور قابل احترام عالمی لیڈرکے طور پر ہندوستان کے عروج کی کہانی ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


