Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi gets relief in defamation case: ساورکر مخالف بیان پر ہتکِ عزت کے مقدمے میں راہل گاندھی کو راحت، ناسک کی عدالت نے دے دی ضمانت

راہل گاندھی کو پونے میں بھی ساورکر مخالف بیان کے سبب ہتک عزت کے ایک مقدمے کا سامنا ہے، جو ساورکر کے پوتے کی طرف سے دائر کیا گیا ہے۔

مہاراشٹر کے ناسک شہر کی ایک عدالت نے جمعرات کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو 2022 میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران وی ڈی ساورکر کے بارے میں تبصرہ کرنے پر ان کے خلاف دائر ہتک عزت کے مقدمے میں ضمانت دے دی۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ آر سی نارواڈیا کے سامنے ویڈیو کالنگ کے ذریعے پیش ہوتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا، جس کے بعد ان کے وکیل نے عدالت سے انھیں ضمانت دینے کی درخواست کی۔

15 ہزار روپے کے مچلکے پر ملی ہے ضمانت

واضح رہے کہ راہل گاندھی پر ناسک کے رہائشی دیویندر بھوٹڈا نے اپنے وکیل منوج پنگلے کے ذریعے تعزیرات ہند کی دفعہ 500 (ہتک عزت) اور 504 (امن کی خلاف ورزی پر اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین) کے تحت مجرمانہ ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ شکایت کنندہ کے وکیل پنگلے نے بتایا کہ عدالت نے راہل گاندھی کو 15,000 روپے کے مچلکے پر ضمانت دی ہے۔

شکایت کنندہ نے راہل گاندھی پر لگایا ہے ساورکر کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام

شکایت کنندہ نے الزام لگایا ہے کہ گاندھی نے ہنگولی میں ایک پریس کانفرنس میں اور نومبر 2022 میں اپنی یاترا کے دوران ایک تقریر میں ساورکر کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے بیانات دیے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ’’ملزم کی تقریر کے ساتھ ساتھ پریس بیانات شکایت کنندہ کے آئیڈیل سوتنتر ویر ساورکر کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور آزادی سے پہلے کے دور میں ان کے عظیم کام کے ساتھ ساتھ سماج میں ان کے تعاون کو بھی خراب طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ راہل گاندھی کو پونے میں بھی ساورکر مخالف بیان کے سبب ہتک عزت کے ایک مقدمے کا سامنا ہے، جو ساورکر کے پوتے کی طرف سے دائر کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read