ہندوستان کی صدر دروپدی مرمو نے منگل کو راشٹرپتی بھون میں سابق صدر جمہوریۂ ہند فخرالدین علی احمد کو ان کی 121 ویں یوم پیدائش کے موقع پر یاد کرتے ہوئے انھیں پھولوں کے ساتھ خراج عقیدت پیش کیا۔ واضح رہے کہ فخرالدین علی احمد 24 اگست 1974 سے لے کر 11 فروری 1977 کو اپنے انتقال کے وقت تک صدر جمہوریہ رہے۔
کون تھے فخر الدین علی احمد؟
ہندوستان کے پانچویں صدر فخر الدین علی احمد کی پیدائش دہلی کے ایک باوقار گھرانے میں 1905 ہوئی۔ ان کے والد کرنل ذی النور علی، دہلی کے لوہاری کے نواب تھے۔ فخرالدین علی احمد کی ابتدائی تعلیم گوڈا اور دہلی کے سرکاری اسکولوں میں ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے 1923 اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن کا رخ کیا اور یونیورسٹی آف کیمبرج سے اپنی تعلیم مکمل کرتے ہوئے قانون کی ڈگری کی۔ پھر ہندوستان واپس آکر انھوں نے لاہور اور اس کے بعد گوہاٹی میں قانون کی پریکٹس کی۔ ایک پرعزم آزادی پسند، فخر الدین احمد نے برطانوی استعمار کے خلاف 1942 کی ہندوستان چھوڑو تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بعد میں وہ آزاد ہندوستان میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے اور وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قابل اعتماد ساتھی رہے۔
President Droupadi Murmu paid floral tributes to Shri Fakhruddin Ali Ahmed, former President of India on his birth anniversary at Rashtrapati Bhavan. pic.twitter.com/4EAr2I1sra
— President of India (@rashtrapatibhvn) May 13, 2025
اپنی صدارت کے دوران فخر الدین علی احمد نے ہی وزیر اعظم گاندھی سے ملاقات کے بعد 1975 میں ایمرجنسی کے اعلان پر دستخط کیے تھے، جو ہندوستان کی آئینی تاریخ کے سب سے اہم اور متنازعہ لمحات میں سے ایک ہے۔ فخر الدین علی حمد کو آج صدر دروپدی مرمو کا خراج عقیدت پیش کرنا، ہندوستان کی قانونی، سیاسی اور آزادی کی تحریکوں میں فخرالدین علی احمد کے تعاون کی یاد دلاتا ہے اور ملک کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف کی نشان دہی کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

