Bharat Express DD Free Dish

Preparations to remove Justice Yashwant Verma: نقدی تنازعہ معاملے میں جسٹس یشونت ورما کو ہٹانے کی تیاری، 100 سے زائد اراکین پارلیمنٹ نے تحریک پر دستخط کیے

جسٹس یشونت ورما کے خلاف کارروائی سے جمہوریت کے ایک اہم ستون عدلیہ میں شفافیت اور احتساب کے مطالبے کو تقویت ملے گی۔ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس اس معاملے پر فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس یشونت ورما کو مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں برطرف کرنے کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ مرکزی پارلیامانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اتوار کے روز تصدیق کی کہ 100 سے زائد اراکین پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں پارلیمانی تحریک پر دستخط کر دیے ہیں۔ رجیجو نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ عدلیہ میں بدعنوانی کا مطلب ہے انصاف پر عوام کا اعتماد متزلزل ہونا، اور ہم اس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔

کیا ہےجسٹس ورما کا معاملہ؟

رواں سال مارچ میں جسٹس ورما کے گھر میں آگ لگنے کے بعد بڑی مقدار میں نقدی برآمد ہوئی تھی۔ معاملہ اعلیٰ عدلیہ تک پہنچا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے تین ججوں پر مشتمل ایک تحقیقی کمیٹی تشکیل دی، جس نے جسٹس ورما کو قصوروار قرار دیا۔ چیف جسٹس نے بعد ازاں رپورٹ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیجی اور جسٹس ورما کے استعفیٰ سے انکار کے بعد ان کو ہٹانے کی سفارش کی۔

تحریک کیسے پیش ہوگی؟

لوک سبھا میں کم از کم 100 اراکین اور راجیہ سبھا میں 50 اراکین کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ رجیجو کے مطابق یہ شرط پوری ہو چکی ہے، اور اب تحریک کو بزنس ایڈوائزری کمیٹی (BAC) کی منظوری کا انتظار ہے تاکہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں پیش کیا جا سکے، جو 21 جولائی سے شروع ہو رہا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن متحد

رجیجو نے دعویٰ کیا کہ عدلیہ میں شفافیت کے معاملے پر حکومت کو نہ صرف اپوزیشن کی حمایت حاصل ہے بلکہ مختلف سیاسی جماعتیں بھی اس اقدام میں شریک ہو رہی ہیں۔

عدلیہ میں اعتماد کا بحران؟

کرن رجیجو پہلے بھی عدلیہ میں بدعنوانی کو ایک حساس اور سنگین مسئلہ قرار دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عدلیہ وہ مقام ہے جہاں لوگ انصاف کی امید رکھتے ہیں۔ اگر وہی بدعنوان ہو جائے تو پورا نظام متزلزل ہو سکتا ہے۔

عدالتی تاریخ میں ایک اہم مثال ہوگا یہ مواخذہ

اگر مواخذے کی تحریک منظور ہوجاتی ہے تو یہ ملک کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم مثال ہوگی۔ اس سے یہ پیغام جائے گا کہ کوئی بھی قانون سے بالا نہیں، چاہے وہ اعلیٰ ترین عدالتی عہدے پر ہی کیوں نہ فائز ہو۔ جسٹس یشونت ورما کے خلاف کارروائی سے جمہوریت کے ایک اہم ستون — عدلیہ — میں شفافیت اور احتساب کے مطالبے کو تقویت ملے گی۔ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس اس معاملے پر فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read