Bharat Express DD Free Dish

Bankipur Byelection: بہار میں شراب بندی ہے تو پون سنگھ کا کیسے چل رہا ہے کاروبار ؟ پاور اسٹار پر پرشانت کشور کا حملہ

بنکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے دوران جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے بھوجپوری اسٹار پون سنگھ پر طنز کرتے ہوئے بہار میں نافذ شراب بندی قانون کا حوالہ دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ریاست میں مکمل شراب بندی نافذ ہے تو پھر پون سنگھ کا کاروبار کیسے چل رہا ہے۔

بنکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے پیش نظر بہار کی سیاست گرم ہے۔ اسی دوران جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بھوجپوری فلموں کے سپر اسٹار پون سنگھ پر براہِ راست حملہ کیا۔ انہوں نے بہار میں نافذ شراب بندی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے پون سنگھ کو نشانے پر لیا اور ان کے کام کاج پر سوال اٹھائے۔

شراب بندی اور پون سنگھ پر سوال

پرشانت کشور نے کہا کہ جب بہار میں مکمل شراب بندی نافذ ہے تو پھر پون سنگھ کا کاروبار کیسے چل رہا ہے؟ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ پون سنگھ دوپہر تک سوتے رہتے ہیں اور اس کے بعد گانا بجانا شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، “آپ لوگ کھانا کھائیے، گانے سنیے اور اگر کوئی آپ کو پیسے بانٹ رہا ہے تو وہ بھی لے لیجیے، لیکن ووٹ ہرگز مت دیجیے۔”

بی جے پی پر بھی تنقید

پرشانت کشور نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس ہزاروں کروڑ روپے ہیں اور وہ انتخابات میں پیسہ بانٹنے کی طاقت رکھتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کوئی پیسے دے تو لے لیں، کیونکہ وہ عوام ہی کا پیسہ ہے، لیکن ووٹ سوچ سمجھ کر اور اپنے ضمیر کے مطابق دیں۔

عوام کو کیا پیغام دیا؟

پرشانت کشور نے کہا کہ بہار کے لوگ بہت سادہ دل ہیں۔ وہ پیسے لینے کے بعد یہ سوچتے ہیں کہ اب ووٹ کیسے نہ دیں۔ انہوں نے عوام کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ ووٹ کسی کے دباؤ، لالچ یا پیسے کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے شعور اور بہتر مستقبل کو سامنے رکھ کر دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں ووٹ عوام کی سب سے بڑی طاقت ہے، اس لیے اسے کسی بھی قیمت پر فروخت نہیں کرنا چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read