Bharat Express DD Free Dish

Saharanpur Mosque Demolition: سہارنپور مسجد انہدام پر سیاست گرم، اکھلیش یادو نے بھیجا 22 رکنی وفد، کمشنر سے لے گا پورے معاملے کی رپورٹ

مسجد گرائے جانے کے معاملے پر ایس پی صدر اکھلیش یادو کی ہدایت پر پارٹی کا 22 رکنی وفد پیر کو سہارنپور جائے گا۔ اس دوران وفد کمشنر سے ملاقات کرے گا اور پورے معاملے کی معلومات حاصل کرے گا۔

اتر پردیش کے سہارنپور میں کلکٹریٹ احاطے میں واقع 100 سال سے زیادہ پرانی مسجد کو گرائے جانے کے معاملے پر ریاست کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اس کارروائی کو لے کر یوگی حکومت اور انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ اسی درمیان سماج وادی پارٹی کا ایک وفد سہارنپور جانے والا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق مسجد گرائے جانے کے معاملے پر ایس پی کا نمائندہ وفد کل یعنی پیر (7 ستمبر) کو سہارنپور جائے گا۔ وفد میں پارٹی کے 22 لیڈر شامل ہوں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایس پی صدر اکھلیش یادو کی ہدایت پر یہ وفد کمشنر سے ملاقات کرے گا۔

وفد میں کون کون ہوگا شامل؟

22 رکنی وفد میں کیرانہ کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن، رکن پارلیمنٹ ہریندر ملک، ایس پی کے قومی جنرل سکریٹری چودھری رودرسین، سابق رکن پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن، رکن اسمبلی اتل پردھان، رکن اسمبلی آشو ملک، رکن اسمبلی عمر علی سمیت کئی رہنما شامل ہوں گے۔ پارٹی نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی اطلاع دی ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ وفد پہلے آج یعنی اتوار (6 ستمبر) کو سہارنپور جانے والا تھا، لیکن کسی وجہ سے تاریخ میں تبدیلی کر دی گئی اور اب وفد 7 ستمبر کو جائے گا۔

ریاستی دفتر کو سونپی جائے گی رپورٹ

سماج وادی پارٹی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ سہارنپور میں انتظامیہ کی جانب سے 119 سال پرانی مسجد گرائے جانے کے معاملے میں پارٹی کا وفد 6 ستمبر کے بجائے 7 ستمبر کو سہارنپور جائے گا۔ پارٹی کے مطابق وفد اس واقعے کے سلسلے میں کمشنر سے ملاقات کرے گا، پورے معاملے کی معلومات حاصل کرے گا اور اس کی رپورٹ ریاستی دفتر کو سونپے گا۔

اقرا حسن نے عدالت جانے کی بات کہی

گزشتہ روز سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے اس معاملے پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے عدالت جانے کی بات کہی تھی۔ انہوں نے آئین کا گلا گھونٹے جانے کی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے میں کوئی مہلت نہیں دی گئی، جبکہ دہشت گردوں کو مہلت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سہارنپور کی مسجد پر پلیس آف ورشپ ایکٹ لاگو ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مسجد 1947 سے پہلے کی بنی ہوئی ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے اقرا حسن نے کہا کہ تمام لوگوں کو نظرانداز کرتے ہوئے وہاں بلڈوزر کی کارروائی کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آئین کا گلا گھونٹا جا رہا ہے اور قانون و ضابطے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس معاملے کو لے کر عدالت جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام فیصلے صرف حکومت کی من مانی سے کیے جائیں گے تو قانون کی حکمرانی اور عدالتی نظام کی ضرورت ہی نہیں رہ جائے گی۔

انتظامیہ نے مسجد کے خلاف کارروائی کی

رپورٹس کے مطابق سٹی مجسٹریٹ نے گزشتہ ماہ مسجد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے انہدام کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد مسلم فریق نے اس حکم کے خلاف ضلع و سیشن عدالت سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے ابتدا میں سٹی مجسٹریٹ کے حکم پر روک لگا دی تھی۔ تاہم، جمعہ کے روز مسلم فریق کی جانب سے کیا گیا دعویٰ مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے مسجد کے خلاف کارروائی کی، جس کے باعث علاقے میں کافی ہنگامہ برپا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read