Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Invites Global Nations: وزیر اعظم نریندر مودی کی عالمی خلائی برادری کو بڑی پیشکش، بھارت کے اگلے خلائی مشن میں شراکت کی دعوت

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا خلائی نظریہ ’وسودھیو کٹمبکم‘ یعنی ’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘ کے جذبے پر مبنی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی قوانین، مکالمے اور کثیرالجہتی تعاون کی بنیاد پر محفوظ، پُرامن اور پائیدار خلائی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کا خلائی شعبہ ٹکراؤ کے بجائے تعاون، قلیل مدتی فائدے کے بجائے پائیداری اور اخراج کے بجائے شمولیت کے اصولوں پر آگے بڑھنا چاہیے۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پیرس میں منعقد پہلے بین الاقوامی خلائی سربراہی اجلاس سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے فرانس سمیت دنیا بھر کے ممالک کو بھارت کے آئندہ خلائی مشنز میں شراکت دار بننے کی دعوت دی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا خلائی پروگرام صرف قومی کامیابیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد خلائی ٹیکنالوجی کے فوائد پوری انسانیت تک پہنچانا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا خلائی نظریہ ’وسودھیو کٹمبکم‘ یعنی ’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘ کے جذبے پر مبنی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی قوانین، مکالمے اور کثیرالجہتی تعاون کی بنیاد پر محفوظ، پُرامن اور پائیدار خلائی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کا خلائی شعبہ ٹکراؤ کے بجائے تعاون، قلیل مدتی فائدے کے بجائے پائیداری اور اخراج کے بجائے شمولیت کے اصولوں پر آگے بڑھنا چاہیے۔

اسرو کی کم لاگت اور قابل اعتماد مشنز کی عالمی شناخت

وزیر اعظم مودی نے بھارتی خلائی تحقیقی تنظیم (اسرو) کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرو نے کم لاگت میں مؤثر اور قابل اعتماد خلائی مشنز انجام دے کر عالمی سطح پر اپنی شناخت بنائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرو کی ٹیکنالوجی کسانوں، ماہی گیروں، موسم کی پیش گوئی، آفات سے نمٹنے اور نیویگیشن سمیت کئی شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اب تک 34 ممالک کے 430 سے زائد سیٹلائٹ بھارتی لانچ وہیکلز کے ذریعے خلا میں بھیجے جا چکے ہیں۔ انہوں نے اسے بھارت کی خلائی صلاحیتوں پر دنیا کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت قرار دیا۔ مودی نے اس کامیابی کا سہرا ان سائنس دانوں، انجینئروں اور تکنیکی ماہرین کو دیا جنہوں نے کئی دہائیوں کی محنت سے اسرو کو عالمی مقام دلایا۔

چندریان-3 اور آدتیہ ایل-1 کا کیا ذکر

وزیر اعظم نے حالیہ خلائی مشنز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چندریان-3 نے چاند کے جنوبی قطب کے قریب کامیاب سافٹ لینڈنگ کرکے تاریخ رقم کی، جبکہ آدتیہ ایل-1 مشن سورج کے مطالعے سے متعلق اہم معلومات حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ ان کامیابیوں نے بھارت کو عالمی خلائی برادری میں ایک اہم مقام دلانے میں مدد کی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے بھارت کے مستقبل کے خلائی منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت 2035 تک اپنا خلائی اسٹیشن قائم کرنے اور 2040 تک ایک بھارتی خلاباز کو چاند پر بھیجنے کے ہدف کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بلند حوصلہ اہداف صرف بھارت کے نہیں بلکہ عالمی شراکت داری اور سائنسی تعاون کے ذریعے انسانیت کی اجتماعی ترقی کے اہداف ہیں۔

نجی خلائی شعبہ بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے

وزیر اعظم نے کہا کہ اسرو کے ساتھ بھارت کا نجی خلائی شعبہ بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ملک میں بڑی تعداد میں خلائی اسٹارٹ اپس اور نجی کمپنیاں سامنے آ رہی ہیں، جو بھارت کی خلائی معیشت کو نئی سمت دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرو کی بہترین کارکردگی کے ساتھ کاروباری صلاحیت کی توانائی جڑ رہی ہے اور بھارت کا نجی خلائی شعبہ تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے۔

بھارت-فرانس خلائی تعاون کا بھی ذکر

بھارت اور فرانس کے درمیان طویل عرصے سے جاری خلائی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کی شراکت داری 1960 کی دہائی میں بھارت کے خلائی پروگرام کے ابتدائی دور سے ہی قائم ہے۔ آج یہ تعاون زمین کے مشاہدے، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور جدید خلائی تحقیق سمیت کئی شعبوں تک پھیل چکا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت خلائی شعبے میں فرانس سمیت دیگر ممالک کا شراکت دار کے طور پر خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کے خلائی مشنز، سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں عالمی تعاون کا کردار مزید اہم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اسی جذبے کے ساتھ دنیا کو اپنے اگلے خلائی مشن کا شراکت دار بننے کی دعوت دے رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read